ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 200

کرتے۔میں آپ سے سچ کہتا ہوں جیسا کہ آج میں نے خان بہادر خدا بخش صاحب کے سامنے عدالت میں کہا کہ آج مجھ پر ہنسی کی جاتی ہے لیکن ایک وقت آئے گا کہ اس کا اثر پڑے گا اور وہ وقت ہنسنے والوں کے لئے شرمندگی کا ہوگا۔غرض خدا تعالیٰ کے نشانات بارش کی طرح ظاہر ہورہے ہیں نہ ایک نہ دو بلکہ میں نے تریاق القلوب میں ایک سو پیشگوئی لکھ دی ہے جو پوری ہو چکی ہے۔اس پر بھی میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر کوئی اس پر صبر نہ کر سکے اور اس کی تسلی کے لئے یہ کافی نہ ہو بشرطیکہ وہ حق کا حامی ہو اور خدا تعالیٰ کا خوف اس کے دل میں ہو تو میں تو اب بھی نشان نمائی کے واسطے طیار ہوں۔خدا تعالیٰ نے مجھے فضل اور موہبت کے طور پر یہ نشان دیا ہوا ہے کہ میں جب اس کے حضور دعا کروں گا وہ مجھے نشان دے گا۔میرا میدان تنگ نہیں ہے بلکہ بہت وسیع ہے۔میدان تنگ رمّالوں کے ہوتے ہیں مگر وہ جو خدا کی طرف سے آتا ہے اس کے لئے میدان بہت وسیع ہوتا ہے۔میں کہتا ہوںکہ کوئی راستی کا بھوکا پیاسا ہو مجھ سے خرچ لے، میرے پاس آوے اور بیٹھ کر نشانات کا معائنہ کرے۔میرے مخالفوں میں سے کسی کو کوئی آمادہ کرے کہ وہ استجابت دعا میں میرا مقابلہ کرے اگر ایک بھی مقابلہ کے لئے آجاوے اور میرا مقابلہ کرکے بڑھ جاوے اور میں اس کا مقابلہ نہ کر سکوں بلکہ میں تو یہاں تک مانتا ہوں کہ اگر استجابتِ دعا میں وہ میرے برابر رہے تب بھی میں اپنا جھوٹا ہونا مان لوں گا اور اپنی ساری کتابیں جلا دوں گا۔اب کوئی ہے تو اسے میرے مقابلہ میں لاؤ اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کوئی میرے مقابلہ میں نہیں آئے گا۔(یہاں تک حضرت اقدسؑ نے تقریر فرمائی تھی کہ مہدی حسن صاحب نے ایک خاص ادا سے کہا کہ میں آپ کو تکلیف دینے کے واسطے نہیںآیا اور نہ تقریر سننے کو بلکہ میں تو کچھ سوال کرنے کو آیا ہوں اس تقریر کی ضرورت نہیں۔ایڈیٹر) اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔بہت اچھا میں تو ہر طرح طیار ہوں۔آپ سوال کریں میں اس کا جواب دوں گا مگر کیا اچھا ہوتا اگر آپ میرا سارا بیان سن لیتے اور اس کے بعد جو شبہ آپ کو رہ جاتا اسے پیش کرتے۔