ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 13

پھر اس کی صفات رَبّ، رَحِیْم، مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ سے منکر تھیں اس لئے اس طرز کو لیا۔یہ یاد رکھو کہ جس نے قرآن کریم کے الفاظ اور فقرات کو جو قانونی ہیں ہاتھ میں نہیں لیااس نے قرآن کا قدر نہیں سمجھا۔اب دیکھو یہاں خَالِقُ الْعَالَمِیْن نہیں فرمایا بلکہ رَبُّ الْعَالَمِیْن فرمایا یہاں یہ بھی فرمایا کہ رَبُّ الْعَالَمِیْن اس لئے بھی فرمایا تا کہ یہ ثابت کرے کہ وہ بسائط اور عالم امر کا بھی ربّ ہے۔کیونکہ بسیط چیزیں امر سے ہیں اور مرکب خلق سے،اس لئے کہ بعض قومیں ربوبیت کی منکر ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم کو جو کچھ ملتا ہے ہمارے عملوں کے سبب سے ہی ملتا ہے مثلاً اگر دودھ ملتا ہے تو اگر ہم کوئی گناہ کر کے گائے یا بھینس وغیرہ کی جون میں نہ جاتے تو دودھ ہی نہ ہوتا اور خلق چونکہ قطع برید کرنے کا نام ہے۔اس لئے اس موقع پر رَبُّ الْعَالَمِیْن کو جو اس سے افضل تر ہے بیان فرمایا۔اسی طرح پر رحمانیت، رحیمیت کے منکر دنیا میں موجود ہیں۔غرض قرآن کریم مذاہبِ باطلہ کے عقائد فاسدہ کو مدّ ِنظر رکھ کر ایک سلسلہ شروع فرماتا ہے۔اسی طرح پر اس قصہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بریت منظور ہے۔اور ان کو اس ناپا ک الزام سے بری کرنا مقصود ہے۔جو ان پر لگایا جاتا ہے کہ وہ بُت پرست تھے۔خدا نے فرمایا مَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ ( البقرۃ : ۱۰۳) سلیمان نے کفر نہیں کیا۔۱ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۰ء دو قسم کی مخلوق مولوی جمال الدین صاحب سید والہ نے اپنے واقعات سنائے۔جس پر حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ آج میں اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (البقرۃ:۸۸) کی بحث لکھتا تھا۔اس میں مَیں نے بتایا ہے کہ مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔روح القدس کے فرزند وہ تمام سعادت مند اور راستباز ہیں جن کی نسبت اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ(الـحجر:۴۳) وارد ہے اور قرآن کریم سے دو قسم کی مخلوق ثابت ہوتی ہے۔اوّل وہ جو روح القدس کے فرزند ہیں اور بن باپ پیدا ہونا تو کوئی خصوصیت ۱ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۰ ؍ نومبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۳، ۴