ملفوظات (جلد 2) — Page 180
چاہیے کہ اس کے نفس سے کیا آواز آتی ہے۔آیا وہ مرنے کے لئے سر رکھ دیتا ہے یا نصرانی ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔اگر مرنے کو ترجیح دیتا ہے تو وہ مومن حقیقی ہے ورنہ کافر ہے۔غرض ان مصائب میں جو مومنوں پر آتے ہیں اندر ہی اندر ایک لذّت ہوتی ہے۔بھلا سوچو تو سہی کہ اگر یہ مصائب لذّت نہ ہوتے تو انبیاء علیہم السلام ان مصائب کا ایک دراز سلسلہ کیونکر گزارتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی ایک عجیب نمونہ ہے اور ایک پہلو سے ساری زندگی ہی تکلیفات میں گزری۔جنگ اُحد میں بھی آپ اکیلے ہی تھے۔لڑائی میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنی نسبت رسول اللہ ظاہر کرنا آپ کی کس درجہ کی شوکت ، جرأت اور استقامت کو بتاتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ انسان جب تک اس کوچہ میں داخل نہ ہو اسے لذّت ہی نہیں آتی۔یہ ایک ایسی لذّت ہے جس کی طرف خدا تعالیٰ ہر مومن کو بلاتا ہے۔جس طرح اَور اَور لذّتوں کا مزا چکھتے ہو اس کا بھی مزا چکھو اور تلاش کرنے والے پا لیتے ہیں۔اُس طرف سے اگر تکاہل اور تساہل ہو گا تو اِدھر سے بھی حرکت نہ ہو گی۔اُدھر سے مجاہدہ ہو گا تو اِدھر سے بھی حرکت ہو گی۔مجاہدہ ایک ایسی شے ہے کہ اس کے بدوں انسان کسی ترقی کے بلند مقام کو پا نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔غرض مجاہدہ کرو اور خدا میں ہو کر کرو تا کہ خدا کی راہیں تم پر کھلیں اور ان راہوں پر چل کر تم اس لذّت کوحاصل کر سکو جو خدا میں ملتی ہے۔اس مقام پر مصائب اور مشکلات کی کچھ حقیقت نہیں رہتی۔یہ وہ مقام ہے جس کو قرآن شریف کی اصطلاح میں شہید کہتے ہیں۔شہادت کی حقیقت لوگوں نے شہید کے معنی صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ کسی کافر غیر مسلم کے ساتھ جنگ کی اور اس میں مارے گئے تو بس شہید ہو گئے۔اگر اتنے ہی معنے شہید کے لئے جاویں تو پھر مخالفوں کو بہت بڑی گنجائش اعتراض کی رہتی ہے اورغالباً یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں اور آریوں نے اسلام کو تلوار کے ذریعہ سے پھیلنے والا مذہب قرار دیاہے اگرچہ ان