ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 181

لوگوںکی سخت نادانی ہے کہ وہ بدوں دریافت کیے اصل منشا کے اعتراض کر دیتے ہیں مگر ہم کو ان مولویوں پر بھی افسوس ہے جنہوںنے قرآن شریف کے حقائق کو پیش نہیں کیا اور خیالی اور فرضی تفسیریں اور مصنوعی قصے بیان کر کے اسلام کے پاک اور خوشنما چہرہ پر ایک پردہ ڈال دیا ہے مگر خدا تعالیٰ جو خود اسلام کا محافظ اور ناصر ہے وہ اب چاہتا ہے کہ اسلام کا پاک اور درخشاں چہرہ دکھایا جاوے چنانچہ یہ سلسلہ جو اس نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے۔اسی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی نصرت کا وقت آپہنچا اور اسلام کی عزّت اور جلال کے دن آگئے کیونکہ خدا تعالیٰ کی تائیدیں اور نصرتیں جو ہمارے شامل حال ہیں، یہ آج کسی مذہب کے پیرو کو نصیب نہیں اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ کیا کوئی اہل مذہب ہے جو اسلام کے سوا اپنے مذہب کی حقانیت پر تائیدی اور سماوی نشان پیش کر سکے۔خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ جو قائم کیا ہے یہ اس حفاظت کے وعدہ کے موافق ہے جو اس نے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ( الـحجر :۱۰) میں کیا ہے۔میرا مطلب یہ تھا کہ شہید کے معنے صرف یہی نہیں کہ غیر مسلم کے ساتھ جنگ کر کے مر جانے والا شہید ہوتا ہے۔ان معنوں نے ہی اسلام کو بد نام کیا اور اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر سرحدی نادان مسلمان بے گناہ انگریزوں کو قتل کرنے میں ثواب سمجھتے ہیں۔چنانچہ آئے دن ایسی وارداتیں سننے میں آتی ہیں۔پچھلے دنوںکسی سرحدی نے لاہور میں ایک میم کو قتل کر دیا تھا۔ان احمقوں کو اتنا معلوم نہیں کہ یہ شہادت نہیں بلکہ قتل بے گناہ ہے۔اسلام کا یہ منشا نہیں ہے کہ وہ فتنہ وفساد برپا کرے بلکہ اسلام کا مفہوم ہی صلح اور آشتی کو چاہتا ہے۔اسلامی جنگوںپر اعتراض کرنے والے اگر یہ دیکھ لیتے کہ ان میں کیسے احکام جاری ہوتے تھے تو وہ حیران رہ جاتے۔بچوں ،بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہیںکیا جاتا تھا۔جزیہ دینے والوںکو چھوڑ دیا جاتا تھا اور ان جنگوںکی بناء دفاعی اصول پر تھی۔ہمارے نزدیک جو جاہل پٹھان اس طرح پر بے گناہ انگریزوں پر پڑتے ہیں اور ان کو قتل کرتے ہیں وہ ہرگز شہادت کا درجہ نہیں حاصل کرتے بلکہ وہ قاتل ہیں اور ان کے ساتھ قاتلوں کا سا سلوک ہو نا چاہیے۔