ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 178

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۸ جلد دوم ا ذبح کر حالانکہ خواب کی تعبیر اور تاویل بھی ہو سکتی تھی مگر خدا تعالیٰ پر ایسا ایمان اور دل میں ایسی قوت اور ایسی استقامت ہے کہ یہ تا ن ہے کہ یہ حکم پاتے ہی معا تعمیل کے واسطے طیار ہو گئے اور اپنے ہاتھ سے نو جوان بیٹے کو ذبح کرنے لگے ۔ آجکل اگر کسی کا بچہ امراض میں مبتلا رہ کر مر جاوے تو خدا تعالیٰ کی نسبت ہزا رہا شکوک پیدا ہو جاتے ہیں اور شکوہ و شکایت کے لئے زبان کھولتے ہیں لیکن ایک ابراہیم ہے کہ بیٹے کی محبت کو کچل ڈالا اور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے کو طیار ہو گیا۔ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرتا۔ ایسے آدمیوں کے کلمات طیبات قرار دیئے جاتے ہیں اور اُن کو ذریعہ دعا ، اُن کے کپڑوں کو متبرک قرار دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی حوصلگی اور استقامت یاد رکھو مومنوں کا یاد ایلام برنگ انعام ہو جاتا ہے۔ اور اس سے عوام کو حصہ نہیں دیا جاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ سالہ زندگی جو مکہ میں گزری اس میں جس قدر مصائب اور مشکلات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئیں ہم تو ان کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے ۔ دل کانپ اٹھتا ہے جب ان کا تصور کرتے ہیں۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی حوصلگی ، فراخ دلی ، استقلال اور عزم و استقامت کا پتہ ملتا ہے۔ کیسا کوہ وقار انسان ہے کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹے پڑتے ہیں مگر اس کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے ۔ وہ اپنے منصب کے ادا کرنے میں ایک لمحہ سست اور غمگین نہیں ہوا۔ وہ مشکلات اس کے ارادے کو تبدیل نہیں کر سکتیں ۔ بعض اور وہ کے ارادے لوگ غلط فہمی سے کہہ اٹھتے ہیں کہ آپ تو خدا کے حبیب مصطفیٰ اور مجتبی تھے پھر یہ مصیبتیں اور مشکلات کیوں آئیں؟ میں کہتا ہوں کہ پانی کے لئے جب تک زمین کو کھودا نہ جاوے اس کا جگر پھاڑا نہ جاوے وہ کب نکل سکتا ہے۔ کتنے ہی گز گہراز مین کو کھودتے چلے جائیں تب کہیں جا کر خوشگوار پانی نکلتا ہے جو مایہ حیات ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ لذت جو خدا تعالیٰ کی راہ میں استقلال اور ثبات قدم کے دکھانے سے نہیں ملتی جب تک ان مشکلات اور مصائب میں سے ہو کر انسان نہ گزرے۔ وہ ، جو اس کو چہ سے بے خبر ہیں وہ ان مصائب ئب کی لذت سے کب آشنا ہو سکتے ہیں اور کب اسے محسوس