ملفوظات (جلد 2) — Page 177
جاوے وہ پھل پھول پیدا کرنے کی قابلیت کے جوہر نہیں دکھا سکتی۔اسی طرح اس زمین میں بیج ڈال دیا جاتا ہے جو خاک میں مل کر بالکل مٹی کے قریب قریب ہو جاتا ہے لیکن کیا وہ دانے اس لئے مٹی میں ڈالے جاتے ہیں کہ زمیندار ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے؟ نہیں نہیں وہ دانے اس کی نگاہ میں بہت ہی بیش قیمت ہیں۔اس کی غرض ان کو مٹی میں گرانے سے صرف یہ ہے کہ وہ پھلیں اور پھولیں اور ایک ایک کی بجائے ہزار ہزار ہو کر نکلیں۔جبکہ ہر جوہرِ قابل کے لئے خدا نے یہی قانون رکھا ہے وہ اپنے خاص بندوں کو مٹی میں پھینک دیتا ہے اور لوگ ان کے اوپر چلتے ہیں اور پیروں کے نیچے کچلتے ہیں مگر کچھ وقت نہیں گزرتا کہ وہ اس سبزہ کی طرح (جو خس وخاشاک میںدبے ہوئے دانے سے نکلتا ہے)نکلتے ہیں اور ایک عجیب رنگ اور آب کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں جو ایک دیکھنے والا تعجب کرتا ہے۔یہی قدیم سے بر گزیدہ لوگوں کے ساتھ سنّت اللہ ہے کہ وہ ورطہءِ عظیمہ میں ڈالے جاتے ہیں لیکن نہ اس لئے کہ غرق کیے جاویں بلکہ اس لئے کہ ان موتیوں کے وارث ہوں جو دریائے وحدت کی تہہ میں ہیں۔وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں نہ اس لئے کہ جلائے جائیں بلکہ اس غرض کے لئے کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا تماشا دکھایا جاوے۔غرض ان سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور ہنسی کی جاتی ہے۔ان پر لعنت کرنا ثواب کا کام سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اپنا جلوہ دکھاتا ہے اور اپنی نصرت کی چمکار دکھاتا ہے۔اس وقت دنیا کو ثابت ہو جاتا ہے اور غیرت الٰہی اس غریب کے لئے جوش مارتی ہے اور ایک ہی تجلی میں اعداء کو پاش پاش کر دیتی ہے۔سو اوّل نوبت دشمنوں کی ہوتی ہے اور آخر میں اس کی باری آتی ہے۔اس کی طرف خدا تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ( الاعراف : ۱۲۹ ) پھر خدا تعالیٰ کے ماموروں پر مصائب اور مشکلات کے آنے کا ایک یہ بھی سِرّ ہوتا ہے تا ان کے اخلاق کے نمونے دنیا کو دکھائے جاویں اور اس عظیم الشان بات کو دکھائے جو ایک معجزہ کے طور پر ان میں ہوتی ہے وہ کیا؟ استقامت استقامت ایک ایسی چیز ہے کہ کہتے ہیں اَ لْاِسْتِقَامَۃُ فَوْقَ الْکَرَامَۃِ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام میں یہ استقامت ہی تو تھی کہ خواب میں حکم ہوا کہ تو بیٹا