ملفوظات (جلد 2) — Page 171
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۱ جلد دوم بہت کچھ نہیں مانگتے صرف تبر کا دے دیجئے ۔ آخر انہوں نے ایک دونی کے قریب سکہ دیا۔ شام کے وقت وہ شخص دونی لے کر واپس آیا اور کہنے لگا کہ حضرت یہ تو کھوٹی نکلی ہے۔ وہ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا ، خوب ہوا۔ دراصل میرا جی نہیں چاہتا تھا کہ میں کچھ دوں۔ مسجدیں بہت ہیں اور مجھے اس میں اسراف معلوم ہوتا ہے۔ کے جون ۱۹۰۱ء رضائے الہی کے حصول کا طریق اللہ تعالی نے قرآن شریف کی تعریف میں جو فرمایا ہے لَوْ أَنْزَلْنَا هُذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللهِ ( الحشر : ۲۲) اس آیت کی تفسیر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ایک تو اس کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف کی ایسی تاثیر ہے کہ اگر پہاڑ پر وہ اتر تا تو پہاڑ خوفِ خدا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا اور زمین کے ساتھ مل جاتا۔ جب جمادات پر اس کی ایسی تاثیر ہے تو بڑے ہی بے وقوف وہ لوگ ہیں جو اس کی تاثیر سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔ اور دوسرے اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص محبت الہی اور رضائے الہی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔ اول تکبر کو توڑنا جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سر اونچا کیا ہوا ہوتا ہے گر کر زمین سے ہموار ہو جائے ۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کو دور کرے۔ عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ گر کر مُتَصَدِّعًا ہو جاتا ہے۔ اینٹ سے اینٹ جدا ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی اس کے پہلے تعلقات جو موجب گندگی اور الہی نارضامندی کے تھے وہ سب تعلقات ٹوٹ جائیں اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور محبتیں اور عداوتیں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے رہ جائیں۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۱ء ۹۰۸