ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 170

ملفوظات حضرت مسیح موعود ١٧٠ وہ حقیقت سے نا آشنا ہیں۔ دعا کا وقت نماز ہے۔ نماز میں بہت دعائیں مانگو۔ ۱۸ رمتی ۱۹۰۱ء جلد دوم بللها۔ ظالم حاکم فرمایا۔ اگر حکم ظالم ہوتواس کو راہ کہتے پھرو بلکہ اپنی بات میں اصلاح کرو۔ خدا اس کو بدل دے گا یا اسی کو نیک کر دے گا۔ جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بد عملیوں کے سبب آتی ہے ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے۔ مومن کے لئے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔ میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو۔ خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو۔ ۲۰ رمتی ۱۹۰۱ء بنانا ۔ ضرورت سے زیادہ مساجد کی تعمیر کہیں سے یا ایک ہی ایک یہ بات جاتے ہیں اور ہ کا حضرت اقدس نے فرمایا کہ پ سے بھی چندہ چاہتے ہیں ۔ سے بھی چندہ چا۔ آپ ہم تو دے سکتے ہیں اور یہ کچھ بڑی بات نہیں ہے مگر جبکہ خود ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم اور ضروری سلسلے خرچ کے موجود ہیں جن کے مقابل میں اس قسم کے خرچوں میں شامل ہونا اسراف معلوم ہوتا ہے تو ہم کس طرح سے شامل ہوں۔ یہاں جو مسجد خدا بنا رہا ہے اور وہی مسجد اقصیٰ ہے وہ سب سے مقدم ہے۔ اب لوگوں کو چاہیے کہ اس کے واسطے روپیہ بھیج کر ثواب میں شامل ہوں ۔ ہمارا دوست وہ ہے جو ہماری بات کو مانے نہ وہ کہ جو اپنی بات کو مقدم رکھے۔ حضرت امام ابوحنیفہ کے پاس ایک شخص آیا کہ ہم ایک مسجد بنانے لگے ہیں آپ بھی اس میں کچھ چندہ دیں۔ انہوں نے عذر کیا کہ میں اس میں کچھ دے نہیں سکتا حالانکہ وہ چاہتے تو بہت کچھ دیتے ۔ اس شخص نے کہا کہ ہم آپ سے