ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 166

رسومات ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ محرم کے دنوں اِمَامَین کی روح کو ثواب دینے کے واسطے روٹیاں وغیرہ دینا جائز ہے یا نہیں۔فرمایا۔عام طور پر یہ بات ہے کہ طعام کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ شرک کی رسومات نہیں چاہئیں۔را فضیوں کی طرح رسومات کا کرنا نا جائز ہے۔بیعت کی حقیقت ایک شخص کا سوال پیش ہو ا کہ اگر آپ کو ہر طرح سے بزرگ مانا جائے اور آپ کے ساتھ صدق اور اخلاص ہو مگر آپ کی بیعت میں انسان شامل نہ ہووے تو اس میں کیا حرج ہے؟ فرمایا۔بیعت کے معنے ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے جس کو قلب محسوس کرتا ہے جبکہ انسان اپنے صدق اور اخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتاہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے تو وہ بیعت کے لئے خود بخود مجبور ہو جاتا ہے اور جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جائے تو انسان سمجھ لے کہ ابھی اس کے صدق اور اخلاص میں کمی ہے۔کشوف والہامات میں شیطان کا دخل اس بات کا ذکر آیا کہ لاہوری علماء نے الٰہی بخش ملہم سے یہ سوال کیا ہے کہ آیا تمہارا الہام تلبیسِ ابلیس سے معصوم ہے یا نہیں۔جس کے جواب میں الٰہی بخش نے کہا کہ میرا الہام دخل شیطان سے پاک نہیں۔اس پر حضرت اقدس امام معصوم نے فرمایا۔یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس میں کیا سِرّ ہے اور کسی کا الہام یا کشف شیطان کے دخل سے کہاں تک پاک ہوتا ہے۔انسان کے اندر دو قسم کے گناہ ہوتے ہیں۔ایک وہ جن سے انسان خدا کی نافرمانی دیدہ و دانستہ کرتا ہے اور بے باکی سے گناہ کرتا ہے۔ایسے لوگ مجرم کہلاتے ہیں یعنی خدا سے ان کا بالکل قطع تعلق ہو جاتا ہے اور وہ شیطان کے ہو جاتے ہیں۔اور دوسرے وہ لوگ جو ہر چند بدی سے بچتے ہیں مگر بعض دفعہ بسبب کمزوری کے کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔سو جس قدر انسان گناہوں کو چھوڑتا اور خدا کی طرف آتا ہے اسی قدر اس کے خواب اور کشف دخل شیطانی سے پاک ہوتے ہیں۔یہاں تک