ملفوظات (جلد 2) — Page 162
ملتی ہیں۔اب یہ ثابت شدہ بات ہے کہ یوز آسف کی قبر ہے۔یوز آسف یوز آسف وہی ہے جس کو یسوع کہتے ہیں۔اور آسف کے معنی ہیں پرا گندہ جماعتوں کو جمع کرنے والا۔چونکہ مسیح علیہ السلام کا کام بھی بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو جمع کرناتھا اور اہل کشمیر بہ اتفاق اہل تحقیق بنی اسرائیل ہی ہیں۔اس لئے ان کا یہاں آنا ضروری تھا۔اس کے علاوہ خود یوز آسف کا قصہ یورپ میں مشہور ہے۔بلکہ یہاں تک کہ اٹلی میں اس نام پر ایک گرجا بھی بنایا گیا ہے اور ہر سال وہاں ایک میلہ بھی ہوتا ہے۔اب اس قدرصرفِ کثیر سے ایک مذہبی عمارت کا بنانا اور پھر ہر سال اس پر ایک میلہ کرنا کوئی ایسی بات نہیں ہے جو سرسری نگاہ سے دیکھی جائے۔وہ کہتے ہیں کہ یوز آسف مسیح کا حواری تھا۔ہم کہتے ہیں یہ بات سچی نہیں ہے۔یوز آسف خود ہی مسیح تھا۔اگر وہ حواری ہے تو یہ تمہارا فرض ہے کہ تم ثابت کرو کہ مسیح کے کسی حواری کا نام شہزادہ نبی ہو۔یہ ایسی باتیں ہیں جو صلیب کے واقعہ کا سارا پردہ ان سے کھل جاتا ہے۔ہاں اگر مسیحی اس بات کے قائل نہ ہوتے تو البتہ بحث بند ہو جاتی لیکن جب کہ انہوں نے قبول کر لیا ہے کہ یوز آسف ایک شخص ہوا ہے اور اس کی تعلیم انجیل ہی کی تعلیم ہے اور اس نے بھی اپنی کتاب کا نام انجیل ہی رکھ لیا ہے اور جس طرح پر شہزادہ نبی مسیح کا نام ہے اس کو بھی شہزادہ نبی کہتے ہیں۔اب غور کرنے کے قابل بات ہے کہ اگر یہ خود مسیح ہی نہیںتو اور کون ہے؟ خدا کے لئے سوچو جو شخص دنیا سے دل نہیں لگاتا اور سچائی سے پیار کرتا ہے اس کو تو ماننے میں ذرا بھی عذر نہیں ہو سکتا کیونکہ جب مان لیا کہ یوز آسف واقعی ایک شخص تھا جس کا مسیح سے تعلق تھا۔اور پھر اٹلی میں اس کا گرجا بھی بنا دیا اور ہر سال وہاں میلہ بھی ہوتا ہے اور پھر یہ بھی اقرار کر لیا کہ اس کی تعلیم انجیل ہی کی تعلیم ہے پھر یہ کون کہہ سکتا ہے کہ وہ خود مسیح نہیں ہے؟ یہ چار باتیں جب تسلیم کر لیں تو میں ایک خبر لے کر آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ آپ جو کہتے ہیں کہ وہ حواری تھا۔ثابت کر کے دکھاؤ کہ یوز آسف کسی حواری کا بھی نام تھا اور یوز آسف تو یسوع سے بگڑا ہوا ہے۔اب ایک ہی بات سے فیصلہ ہوتا ہے۔اگر یہ ثابت کر کے دکھایا جاوے کہ مسیح کے کسی حواری کا نام یوز آسف، شہزادہ نبی اور عیسیٰ صاحب ہے تو