ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 161

لیکن ایک منصف مزاج کہہ اٹھے گا کہ زخم لگے رہے اور کھانے کے محتاج رہے۔یہ زندہ آدمی کے واقعات ہیں۔یہ واقعات اور صلیب کے بعد کے دوسرے واقعات گواہی دیتے ہیں اور تاریخ شہادت دیتی ہے کہ دو تین گھنٹہ سے زیادہ صلیب پر نہیں رہے اوروہ صلیب اس قسم کی نہ تھی جیسے آجکل کی پھانسی ہوتی ہے جس پر لٹکاتے ہی دو تین منٹ کے اندر ہی کام تمام ہو جاتا ہے بلکہ اس میں تو کیل وغیرہ ٹھونک دیا کرتے تھے اور کئی دن رہ کر انسان بھوکا پیاسا مَر جاتا تھا۔مسیح کے لئے اس قسم کا واقعہ پیش نہیں آیا۔وہ صرف دو تین گھنٹہ کے اندر ہی صلیب سے اتار لئے گئے۔یہ تو وہ واقعات ہیں جو انجیل میں موجود ہیں۔جو مسیح کے صلیب پر نہ مَرنے کے لئے زبردست گواہ ہیں۔پھر ایک اور بڑی شہادت ہے جو اس کی تائید میں ہے۔وہ مرہم عیسیٰ ہے جو طب کی ہزاروں کتابوں میں برابر درج ہے اور اس کے متعلق لکھا گیا ہے کہ یہ مرہم مسیح کے زخموں کے واسطے حواریوں نے طیار کی تھی۔یہودیوں عیسائیوں کی طبّی کتابوں میں اس مرہم کا ذکر موجود ہے۔پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ صلیب پر مَر گئے تھے۔ان سب باتوں کے علاوہ ایک اور امر پیدا ہو گیا ہے جس نے قطعی طور سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح کا صلیب پر مَرنا بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔وہ ہرگز ہر گز صلیب پر نہیں مَرے اور وہ ہے مسیح کی قبر۔مسیح کی قبر مسیح کی قبر سری نگر خانیار کے محلّہ میں ثابت ہو گئی ہے اور یہ وہ بات ہے جو دنیا کو ایک زلزلہ میں ڈال دے گی کیونکہ اگر مسیح صلیب پر مرے تھے تو یہ قبر کہاں سے آگئی؟ سوال۔آپ نے خود دیکھا ہے؟ جواب۔میں خود وہاں نہیں گیا لیکن میں نے اپنا ایک مخلص ثقہ مرید وہاں بھیجا تھا۔وہ وہاں ایک عرصہ تک رہا اور اس نے پوری تحقیقات کر کے پانسو معتبر آدمیوں کے دستخط کرائے جنہوں نے اس قبر کی تصدیق کی۔وہ لوگ اس کو شہزادہ نبی کہتے ہیں اور عیسیٰ صاحب کی قبر کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔آج سے گیارہ سو سال پہلے اکمال الدین نام ایک کتاب چھپی ہے وہ بعینہٖ انجیل ہے۔وہ کتاب یوز آسف کی طرف منسوب ہے۔اس نے اس کا نام بشریٰ یعنی انجیل رکھا ہے۔یہی تمثیلیں، یہی قصے، یہی اخلاقی باتیں جو انجیل میں ہیں پائی جاتی ہیں اور بسا اوقات عبارتوں کی عبارتیں انجیل سے