ملفوظات (جلد 2) — Page 160
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۰ جلد دوم ساتھ متفق ہیں ۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا بڑا معجزہ یہی تھا کہ وہ صلیب پر نہیں مریں گے کیونکہ یونس نبی کے نشان کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ اب اگر یہ مان لیا جائے جیسا کہ عیسائیوں نے غلطی سے مان رکھا ہے کہ وہ صلیب پر مر گئے تھے تو پھر یہ نشان کہاں گیا ؟ اور یونس نبی کے ساتھ مماثلت کیسی ہوگی ؟ یہ کہنا کہ وہ قبر میں داخل ہو کر تین دن کے بعد زندہ ہوئے بہت بے ہودہ بات ہے اس لئے کہ یونس تو زندہ مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوئے تھے نہ مر کر ۔ یہ نبی کی بے ادبی ہے اگر ہم اس کی تاویل کرنے لگیں ۔ اصل بات یہی ہے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اتر آئے ۔ ہر ایک سلیم الفطرت انسان کو واجب ہے کہ جو کچھ مسیح نے صاف لفظوں میں کہا اس کو محکم طور پر پکڑیں۔ حضرت عیسیٰ پر ایک غشی کی حالت تھی ۔ انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اور اسباب اور واقعات بھی اس قسم کے پیش آگئے تھے کہ وہ صلیب کی موت سے بچ جائیں چنانچہ سبت کے شروع ہونے کا خیال، حاکم کا مسیح کے خون سے ہاتھ دھونا ، اس کی بیوی کا خواب دیکھنا وغیرہ۔ خدا تعالیٰ نے ہم کو سمجھا دیا ہے اور ایک بہت بڑا ذخیرہ دلائل اور براہین کا دیا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہرگز ہرگز صلیب پر نہیں مرے، صلیب پر سے زندہ اتر آئے۔ غشی کی حالت بجائے خودموت ہوتی ہے۔ دیکھو سکتہ کی حالت میں نہ نبض رہتی ہے نہ دل کا مقام حرکت کرتا ہے۔ بالکل مُردہ ہی ہوتا ہے مگر پھر وہ زندہ ہو جاتا ہے۔ مسیح کے نہ مرنے کے دو بڑے زبر دست گواہ ہیں۔ اوّل تو یہ ہے کہ یہ ایک نشان اور معجزہ تھا۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس کی کسر شان کی جاوے اور وہ آدمی سخت حقارت اور نفرت کے لائق ہے جو اللہ تعالیٰ کے نشانات کو حقیر سمجھ لیتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق نہیں کرتے کہ وہ صلیب پر مرے ہیں بلکہ صلیب پر سے زندہ اتر آئے اور پھر اپنی طبعی موت سے مرنے کی تصدیق فرماتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی اگر انجیل کی ساری باتوں کو جو اس واقعہ صلیب کے متعلق ہیں یکجائی نظر سے دیکھیں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ مسیح صلیب پر مرے ہوں ۔ حواریوں کو ملنا ، زخم دکھانا ، کباب کھانا ، سفر کرنا، یہ سب امور ہیں جو اس بات کی نفی کرتے ہیں اگر چہ خوش اعتقادی سے ان واقعات کی کچھ بھی تاویل کیوں نہ کی جاوے