ملفوظات (جلد 2) — Page 159
سوال۔اور کیا مشابہت ہے؟ جواب۔’’تعلیم میں مشابہت ہے۔سوال :آپ کی رسالت کا نتیجہ کیا ہو گا؟ جواب۔رسالت کا نتیجہ ’’خدا تعالیٰ کے ساتھ جو رابطہ کم ہو گیا ہے اور دنیا کی محبت غالب آگئی ہے اور پاکیزگی کم ہو گئی ہے۔خد اتعالیٰ اس رشتہ کو جو عبودیت اور الوہیت کے درمیان ہے پھر مستحکم کرے گا۔اور گمشدہ پاکیزگی کو پھر لائے گا۔دنیا کی محبت سرد ہو جائے گی۔‘‘ سوال۔جبکہ مختلف مذاہب ہیں تو پھر کس طرح پہچانیں کہ سچا مذہب خدا کی طرف سے کون ہے؟ جواب۔سچے مذہب کی شناخت ’’یہ کوئی مشکل امر نہیں ہے۔دنیا میں ہر کھوٹے اور کھرے کے درمیان ایک امتیاز ہے۔رات اور دن میں صریح فرق ہے۔پھر سچا مذہب بھی کبھی مخفی رہ سکتا ہے۔خدا پاک ہے اور وہ محبت، رحمت کرنے والا ہے اور وہ نفسانی امور جو گناہ کے کام ہیں۔بد کاری ،تعصب، تکبر اور تمام گناہ جو دل میں جمع ہوتے ہیں۔پھر آنکھوں کے ذریعہ یا اور ذریعوں سے صدور پاتے ہیں۔ان سے ناراض ہوتا ہے۔پھر یہ کیونکر مشکل ہو سکتا ہے کہ انسان یہ تمیز نہ کر سکے کہ خدا انسانوں کو پاک بنانا چاہتا ہے اور وہ ان سے گناہ کے صدور کو پسند نہیں کرتا پس جس مذہب کی تعلیم عملی طور پر ایسی فطرت عطا کرتی ہو کہ انسان خدا سے ڈر کر اس کی صفات کے نیچے رہ کر پاکیزگی اور محبت میں ترقی کرے اور گناہ سے بچے وہی مذہب خدا کی طرف سے ہو گا۔خدا ئی مذہب کے ساتھ اس کی صداقت کے زندہ نشان ہوتے ہیں۔جو ہر زمانہ میں موجود رہتے ہیں۔‘‘ سوال:آپ کا خیال مسیح کی صلیب کی نسبت کیا ہے؟ جواب۔مسیحؑ کا واقعہ صلیب ’’میں اس کو نہیں مانتا کہ وہ صلیب پرمرے ہوں بلکہ میری تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اتر آئے اور خود مسیح علیہ السلام بھی میری رائے سے الحکم جلد 5 نمبر 18 مورخہ 17/ مئی 1901ء صفحہ 1 تا 4