ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 156

مذہب جس شے کا نام تھا اس کا نام ونشان مٹ چکا ہے۔یورپ کی قوموں کا ہی اگر یہ حال ہوتا تب بھی ضرور تھا کہ کوئی روحانی معلّم آتا مگر مسلمانوں کی حالت بھی بگڑ گئی۔ان کے ایمانیات اخلاق و عادات میں ایک عظیم زلزلہ آیا ہے۔وہ اسلام کے صرف نام سے آشنا ہیں۔اس کی حقیقت اور مغز سے بے خبر ہو رہے ہیں۔ان کی عملی اورعلمی قوتیں کمزور ہو گئی ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ غیرقوموں نے ان کے مذہب اور ایمان پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔جب ایسی حالت ہو گئی تو خدا نے اپنے وعدہ کے موافق اور اس مشابہت اور مماثلت کے لحاظ سے جو سلسلہ محمدؐیہ کو سلسلہ موسویہ سے ہے اس چودھویں صدی کے سر پر مجھے مسیح موعود کے نام سے بھیجا۔قرآن کریم میں خاتم الخلفاء کی پیشگوئی تھی اور یہی ذکر تھا کہ ایک مسیح اس امت میں آئے گا اور انجیل میں مسیح نے کہا کہ آخری زمانہ میں مَیں آؤں گا۔وہ میں ہی ہوں۔اور اس کا راز خدا نے مجھ پر یہ کھولاہے کہ جو لوگ یہاں سے چلے جاتے ہیں ان کی خو،خصلت اور اخلاق پر ایک اور شخص آتا ہے اور اس کا آنا گویا اسی شخص کا آنا ہوتا ہے۔اور یہ بات بے معنی اور بے سند بھی نہیں ہے خود انجیل نے اس عقدہ کو حل کیا ہے۔یہود جو مسیح بن مریم سے پیشتر ایلیا نبی کے آنے کے منتظر تھے اور ملا کی نبی کی کتاب کے وعدہ کے موافق ان کا حق تھا کہ وہ انتظار کرتے لیکن وہ چونکہ ظاہر بین اور الفاظ پرست تھے اس لئے وہ حقیقت سے آشنا نہ ہوئے اور ایلیا ہی کا انتظار کرتے رہے۔جیسا کہ توریت اور نبیوں کی کتابوں میں لکھا تھا جو وعدہ پر آتا ہے وہی موعودہو۔ان کو یہ غلطی لگی کہ مسیح موعود سے پہلے ایلیا آئے گا۔ان کی نظر چونکہ موٹی تھی وہ انتظار کرتے رہے کہ ایلیا پہلے آئے۔چنانچہ ایک بار وہ مسیح کے پاس گئے اور انہوں نے یہ سوال کیا۔آپ نے یہی جواب دیا کہ ایلیا تو آگیا اور وہ یہی یوحنا ہے۔پھر وہ یوحنا کے پاس گئے۔اس سے پوچھا۔انہوںنے کہا کہ میں ایلیا نہیں ہوں۔چونکہ ان کے دل پاک نہ تھے۔اس لئے اس کو تناقض پر محمول کیا اور اس سے یہ نتیجہ نکال لیا کہ یہ مسیح سچامسیح نہیں ہے حالانکہ مسیح علیہ السلام نے جو کچھ کہا وہ بالکل درست تھا اور اس میں کوئی تناقض نہ تھا۔مسیح کا مطلب صرف یہ تھا کہ یہ یوحنا جس کو مسلمان لوگ یحییٰ کہتے ہیں ایلیا کی خُو اور طبیعت اور قوت پر آیا ہے مگر انہوں نے یہ سمجھا کہ سچ مچ وہی ایلیا