ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 153

ور اسے ایک کیڑا لگا ہوا ہے۔پوست ہی پوست باقی ہے مغز نہیں رہا۔مگر خدا نے چاہا ہے کہ انسان پاک ہو جاوے اور اس پر کوئی داغ نہ رہے۔اسی واسطے اس نے محض اپنے فضل سے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔مسیح موعودؑ کی حقیقت سوال۔آپ کی کتابوں کے موافق آپ کا لقب مسیح موعود ہے۔اس کے ٹھیک معنے کیا ہوتے ہیں؟ جواب۔اس راز کو سمجھنے کے واسطے یہ جاننا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس نے نبوتوں کی بنیاد ڈالی ہے۔نبوت کا ایک سلسلہ پہلے قائم کیا تھا اس سلسلہ کی بنیاد حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی سے ڈالی تھی۔ان سے پیشتر جو نبی دنیا میں گزرے تھے ان کے آثار نہ رہے تھے۔حضرت موسیٰ ہی تھے جن کی کتاب میں نوح کا، آدم کا اور بعض دیگر انبیاء علیہم السلا م کا ذکر کیا گیا۔غرض جیسے کسی خاندان کا مورثِ اعلیٰ ہوتا ہے اسی طرح پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خاندانِ نبوت کا مورثِ اعلیٰ ٹھہرایا اور توریت کے ذریعہ ان کو اپنی شریعت دی۔موسیٰ مرد خدا کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کی خدمت کے لئے کہ اس میں زوال نہ ہواور نبی بھیجتا رہا جو اس سلسلہ موسویہ کے خادم ہوتے تھے چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (جس کو آپ لوگ یسوع کہتے ہیں)اسی سلسلہ موسویہ کا مؤید بنا کر بھیجا۔وہ اس سلسلہ موسویہ کی آخری اینٹ تھے جیسے آخری اینٹ مکان کو ختم کر دیتی ہے اسی طرح حضرت مسیح پر سلسلہ موسویہ کا خاتمہ ہو گیا اور اس سلسلہ کو خدا نے پورا کیا اور ایک نئے سلسلے کی بنیاد رکھی جو اسماعیل کی نسل سے قائم ہوا اور سلسلہ محمدیہ کہلایا۔جیسا کہ خود اسماعیل کے لفظ سے بھی معلوم ہوتا ہے اور جیسا خدا تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی معرفت خبر دے دی تھی کہ بنی اسماعیل میں ایک سلسلہ موسویہ سلسلہ کی طرح قائم کیا جاوے گا۔چونکہ بنی اسرا ئیل یعنی یہودیوں نے نہ اوّل کے ساتھ جو موسیٰ علیہ السلام تھے اچھا سلوک کیا اور نہ آخری کے ساتھ جو مسیح تھا اچھا سلوک کیا اور ایسا ہی نہ درمیانی نبیوں سے اچھا سلوک کیا کہ یہ قوم ایسی سنگدل اور بے باک تھی کہ صفحہ روزگار میں اس کی نظیر نہ ملے گی۔نبیوں کی تکذیب اور ایذا رسانی میں اس قوم نے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔انہوں نے خدا کے نورانی بندوں کی قدر نہیں کی۔اس لئے