ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 154

حضرت عیسیٰ پر اس سلسلہ کو ختم کر دیا۔مسیح کی بن باپ ولادت میں قدرت کا انتباہ یہ ختم رضا مندی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ناراضگی کی وجہ سے تھا۔خود حضرت مسیح کی پیدائش بطور نشان کے تھی یعنی وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے چونکہ نسل باپ سے جاری ہوتی ہے اس لئے حضرت عیسیٰ کو بن باپ پیدا کر کے خدا نے بنی اسرائیل کو متنبہ کیا کہ تمہاری شامتِ اعمال کی وجہ سے اس سلسلہ کو ختم کیا جاتا ہے۔دوباتوں کا خود تم لوگوں نے اعتراف کیا ہے۔اوّل یہ کہ خدا نے ان کو بدوں باپ پیدا کیا جو یہ کہتا ہے کہ ان کا باپ ہے وہ خدا تعالیٰ کے قانون کو توڑنا چاہتا ہے اور خد اتعالیٰ کے اس نشان کی جو ان کی پیدائش میں رکھا ہوا تھا بے حرمتی کرتا ہے۔دوسری بات جس کا تم کو اعتراف ہے،یہ ہے کہ وہ آخری اینٹ تھے۔اس کی مثال انجیل میں باغ والی تمثیل میں بیان کی گئی ہے کہ ایک شخص نے باغ لگایا۔اس کے طیار ہونے پر نوکر کو بھیجا وغیرہ آخر تک۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نظر مہر اور نظر رحم یہود پر نہ رہی تھی۔پھر تیسری نشانی اس امر پر کہ سلسلہ موسویہ کا خاتمہ مسیحؑ پر ہو گیا،یہ ہے کہ ان کا ملک بھی چھن گیا۔غرض مسیح علیہ السلام کا بن باپ پیدا ہونا بطور ایک نشانِ کتبہ کے تھا۔اسی خاندان میں سے جو ایک ہی جز رکھتا تھا اور جس میں آج تک نبی آتے رہے تھے۔خدا نے ایک اور شاخ پیدا کر دی اور ایک دوسری بنیاد بنی اسماعیل میں سے ڈالی۔یہود کی حکومت کی تباہی کا ذکر میں نے اس لئے کیا ہے کہ نبوت اور حکومت خدا نے اس قوم میں رکھ دی تھی لیکن مسیح کو جب کہ بن باپ پیدا کر کے یہ بتایا کہ تمہاری بد اعمالیاں اور شوخیاں ،نبیوں کی تکذیب اور خدا تعالیٰ کے ماموروں سے عداوت اس درجہ تک پہنچ گئی ہے کہ اب تم بجائے منعم علیہم ہو نے کے مغضوب ہوتے ہو اور نبوت کے خاندان کے انقطاع کے لئے یہ نشان ان کو دیا گیا کہ بنی اسرائیل میں سے مسیح کا کوئی باپ نہ ہوا یعنی اس کو بن باپ پیدا کرکے بتایا کہ آئندہ نبوت تم میں سے گئی۔