ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 148

جواب۔میرے نزدیک اشاعت مذہب کا بہترین طریق یہی ہے کہ وہ مذہب اپنی خوبیوں اور حُسن کی وجہ سے خود ہی اندر چلا جاوے اور اس کے لئے بیرونی کوشش کرنی نہ پڑے مثلاً بعض چیزیں ایسی ہیں کہ وہ اپنی روشنی کی وجہ سے خود بخود نظر آتی ہیں جیسے سورج ،چاند، ستارے وغیرہ۔اور ایک وہ چیزیں ہیں جو ان روشنیوں کے بغیر نظر ہی نہیں آسکتی ہیں مثلاً چرند پرند وغیرہ کو ہم نہیں دیکھ سکتے جب تک روشنی نہ آوے۔پس سچا مذہب اپنی روشنی اور حقّانیت و صداقت کے نور سے خود بخود شناخت ہو کر روحوں میں اترتا جاتا ہے اور دلوں کو اپنی طرف کھینچتا جاتا ہے اس لئے میں نے کہا تھا کہ تعلیم ایک بڑا نشان ہے۔جس مذہب کے ساتھ تعلیم کا نشان نہیں ہوتا اس کے دوسرے نشان کوئی فائدہ پہنچا نہیں سکتے۔آسمانی تعلیم اپنے اندر ایک روشنی اور نور رکھتی ہے۔وہ انسانی طریقوں سے بالا تر ہوتی ہے۔ایک انسان جب بکلی مر جاوے اور گندی زندگی سے نکل آوے اس وقت وہ خدا میں زندگی پاتا ہے اور سچے مذہب کا نشان محسوس کرتا ہے مگر خدا کے فضل کے سوایہ کس کا کام ہے کہ گندی زندگی سے مر کر نئی زندگی پاوے۔یہ اس خدا کے ہاتھ سے ہوتا ہے جس نے دنیا کو زندگی بخشی ہے۔وہ جس انسان کو مبعوث کرتا ہے پہلے اس کو یہ زندگی عطا کرتا ہے۔وہ بظاہر دنیا میں ہوتا ہے اور دنیا کے لوگوں سے ہوتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اس دنیا کا انسان نہیں ہوتا۔وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے ہوتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ اس کے مناسب حال تعلیم اس کو دیتا ہے جس کو اسی مناسبت کے لوگ سیکھتے ہیں۔اس میں گند، نفس پرستی، ظلم اور شہوانی خواہشات کو پورا نہیں کیا جاتا بلکہ وہ پاک باتیں ہوتی ہیں جو انسان پر ایک موت وارد کر کے اس کو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہیں۔جس سے اس کو گناہ سوز فطرت مل جاتی ہے۔وہ ہر ایک قسم کی ناپاکی اور گند سے نفرت کرتا ہے اور خدا تعالیٰ میں زندگی بسر کرنے میں راحت اور لذّت پاتا ہے۔پس میرے نزدیک سچا مذہب اپنی اشاعت کا آپ ہی کفیل ہے۔اس کے لئے کسی خارجی کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہاں یہ سچ ہے کہ اس کی صداقت کے اظہار کا ذریعہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا کی طرف سے اسے لے کر آتے ہیں۔مقابلہ کے وقت ان کو غلبہ ملتا ہے جو بطور نشان کے ہوتا ہے۔ان کی آمد اس وقت ہوتی ہے جب دنیا حق اور