ملفوظات (جلد 2) — Page 9
اشاعت ہدایت کی تکمیل مسیح موعودؑ کے ذریعہ مقدر ہے فرمایا۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس قسم کی اصلاح ہے۔حالت تو یہ ہے کہ بُعد ِزمانہ ہی بجائے خود بہت کچھ قابلِ رحم حالت ہوتی ہے اور اس پر تو ہزاروں فتنے اور آفتیں بھی ہوںگی پھر قتال سے کیا فائدہ؟ خیر آخر میں یہ بھی لکھ دیا ہے لَا مَھْدِیَّ اِلَّا عِیْسٰی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات قرآن سے ہی ہے۔جب ہم اس ترتیب کو دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو رسول اللہ کی زندگی کے دو ہی مقصد بیان فرمائے ہیں۔تکمیلِ ہدایت اور تکمیلِ اشاعت ہدایت اور اوّل الذکر تکمیل چھٹے دن یعنی جمعہ کے دن ہوئی۔جبکہاَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدۃ:۴) نازل ہوئی اور دوسری تکمیل کے لئے بالاتفاق مانا گیا ہے کہ وہ مسیح ابن مریم یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگی۔سب مفسروں نے بالاتفاق لکھ دیا ہے کہهُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى (الصّف:۱۰) کی نسبت لکھتے ہیں کہ یہ مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگی اور جبکہ پہلی تکمیل چھٹے دن ہوئی تو دوسری تکمیل بھی چھٹے دن ہی ہونی چاہیے تھی اور قرآنی دن ایک ہزار برس کا ہوتا ہے۔گویا مسیح موعود چھٹے ہزار میں ہو گا۔پھر فرمایا کہ قرآن ہی پڑھنے کے قابل ہے۔کیونکہ قرآن کے معنی ہی یہ ہیں۔ضمناً یہ بھی فرمایا کہ آریوں نے قرآن کریم کے نہ سمجھنے سے خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ (اٰلِ عـمران:۵۵) وغیرہ الفاظ پر اعتراض کیا ہے حالانکہ خود وید میں اِندر کو بڑا مکّار لکھا ہے۔پھر مہدی کی حدیثوں کی نسبت فرمایا کہ سلطنت کے خیال سے وضع کی گئی تھیں۔۱ قرآن کے نام میں پیشگوئی فرمایا۔اگر ہمارے پاس قرآن نہ ہوتا اور حدیثوں کے یہ مجموعے ہی مایۂ ناز ایمان واعتقاد ہو تے تو ہم قو موں کو شرمساری سے منہ بھی نہ دکھاسکتے۔میں نے قرآن کے لفظ میں غور کی۔تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیش گوئی ہے۔وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۶؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحہ ۳