ملفوظات (جلد 2) — Page 142
اپریل ۱۹۰۱ء کشف والہام کی حقیقت منشی الٰہی بخش صاحب وغیرہ لوگوں کی اپنی بعض حالتوں سے دھوکا کھا جانے کی نسبت گفتگو تھی۔اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ عام طور پر رؤیا اور کشف اور الہام ابتدائی حالت میں ہر ایک کو ہوتے ہیں مگر اس سے انسان کو یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ وہ منزل مقصود کو پہنچ گیا ہے۔اصل میں بات یہ ہے کہ فطرت انسانی میں یہ قوت رکھی گئی کہ ہر ایک شخص کو کوئی خواب یا کشف یا الہام ہو سکے۔چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ کفار،ہنود اور بعض فاسق فاجر لوگوں کو بھی خوابیں آتی ہیں اور بعض دفعہ سچی بھی ہو جاتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے خود ان لوگوں کے درمیاں اس حالت کا کچھ نمونہ رکھ دیا ہے جو کہ اولیاء اللہ اور انبیاء اللہ میں کامل طور پر ہوتا ہے تا کہ یہ لوگ انبیاء کا صاف انکار نہ کر بیٹھیں کہ ہم اس علم سے بے خبر ہیں۔اتمام حجت کے طور پر یہ بات ان لوگوں کو دی گئی ہے تاکہ انبیاء کے دعا وی کو سن کر حریف اقرار کر لے کہ ایسا ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کیونکہ جس بات سے انسان بالکل نا آشنا ہوتا ہے اس کا وہ جلدی انکار کر دیتا ہے۔مثنوی رومی میں ایک اندھے کا ذکر ہے کہ اس نے یہ کہنا شروع کیا کہ آفتاب دراصل کوئی شے نہیں۔لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔اگر آفتاب ہوتا تو کبھی میں بھی دیکھتا۔آفتاب بولا کہ اے اندھے! تو میرے وجود کا ثبوت مانگتا ہے تو پہلے خدا سے دعا کر کہ وہ تجھے آنکھیں بخشے۔اللہ تعالیٰ رحیم وکریم ہے۔اگر وہ انسان کی فطرت میں یہ بات نہ رکھ دیتا تو نبوت کا مسئلہ لوگوں کو کیوں کر سمجھ میں آتا۔ابتدا ئی رؤیا یا الہام کے ذریعہ سے خدا بندہ کو بلانا چاہتا ہے مگر وہ اس کے واسطے کوئی حالت قابل تشفی نہیں ہوتی چنانچہ بلعم کو الہامات ہوتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کہ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ ( الاعراف:۱۷۷ ) ثابت ہوتا ہے کہ اس کا رفع نہیں ہوا تھا۔یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور میں وہ کوئی بر گزیدہ اور پسندیدہ بندہ ابھی تک نہیں بنا تھا یہاں تک کہ وہ گر گیا۔ان الہامات وغیرہ سے