ملفوظات (جلد 2) — Page 143
انسان کچھ بن نہیں سکتا۔انسان خدا کا بن نہیں سکتا جب تک کہ ہزاروں موتیں اس پر نہ آویں اور بیضہءِ بشریت سے وہ نکل نہ آئے۔اس راہ میں قدم مارنے والے انسان تین قسم کے ہیں۔ایک وہ جو دِیْنُ الْعَجَائِز رکھتے ہیں یعنی بڑھیا عورتوں کا سا مذہب۔نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں اور توبہ و استغفار کر لیتے ہیں۔انہوں نے تقلیدی امر کو مضبوط پکڑا ہے اور اس پر قائم ہیں۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو اس سے آگے بڑھ کر معرفت کو چاہتے ہیں اور ہر طرح کوشش کرتے ہیں اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھاتے ہیں اور اپنی معرفت میں انتہائی درجہ کو پہنچ جاتے ہیں اور کامیاب اور بامراد ہو جاتے ہیں۔تیسرے وہ لوگ ہیں جنہوںنے دِیْنُ الْعَجَائِز کی حالت میں رہنا پسند نہ کیا اور اس سے آگے بڑھے اور معرفت میں قدم رکھا مگر اس منزل کو نباہ نہ سکے اور راہ ہی میں ٹھوکر کھا کر گر گئے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔ان لوگوں کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کو پیاس لگی ہوئی تھی اور اس کے پاس کچھ پانی تھا پر وہ پانی گدلا تھا تاہم وہ پی لیتا تو مرنے سے بچ جاتا۔کسی نے اس کو خبر دی کہ پانچ سات کوس کے فاصلہ پر ایک چشمہ صاف ہے۔پس اس نے وہ پانی جو اس کے پاس تھا پھینک دیا اور وہ صاف چشمہ کے واسطے آگے بڑھا۔پر اپنی بے صبری اور بد بختی اور ضلالت کے سبب وہاں نہ پہنچ سکا۔دیکھو اس کا کیا حال ہوا۔وہ ہلاک ہو گیا اور اس کی ہلاکت نہایت ہولناک ہوئی۔یا ان حالتوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک کنواں کھودا جا رہا ہے۔پہلے تو وہ صرف ایک گڑھا ہے جس سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ آنے جانے والوں کے واسطے اس میں گر کر تکلیف اٹھانے کا خطرہ ہے پھر وہ اورکھودا گیا یہاں تک کہ کیچڑ اور خراب پانی تک وہ پہنچا۔پر وہ کچھ فائدہ مند نہیں۔پھر جب وہ کامل ہوا اور اس کا پانی صفا ہو گیا تو وہ ہزاروں کے واسطے زندگی کا موجب ہو گیا۔یہ جو فقیر اور گدی نشین بنے بیٹھے ہیں یہ سب لوگ ناقص حالت میں ہیں۔انبیا ء مصفّا پانی کے مالک ہو کر آتے ہیں۔جب تک خدا کی طرف سے کوئی کچھ لے کر نہ آوے تب تک بے سود ہے۔الٰہی بخش صاحب اگر موسیٰ بنتے ہیں تو ان سے پوچھنا چاہیے کہ ان کے موسیٰ بننے کی علّت غائی کیا ہے۔جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ مزدور کی طرح ہوتے ہیں اور لوگوں کو نفع پہنچانے