ملفوظات (جلد 2) — Page 140
پیش آنے کا اندیشہ ہی اندیشہ ہے۔روحانی تعلّق کا کمال دنیا میں دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ایک جسمانی تعلقات جیسے ماں،باپ، بھائی ،بہن وغیرہ کے تعلقات۔دوسرے روحانی اور دینی تعلقات۔یہ دوسری قسم کے تعلقات اگر کامل ہو جائیں تو سب قسم کے تعلقات سے بڑھ کر ہوتے ہیں اور یہ اپنے کمال کوتب پہنچتے ہیں جب ایک عرصہ تک صحبت میں رہے۔دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو جماعت صحابہؓ کی تھی اس کے یہ تعلقات ہی کمال کو پہنچے ہوئے تھے جو انہوں نے نہ وطن کی پروا کی اور نہ اپنے مال واملاک کی اور نہ عزیزواقارب کی یہاں تک کہ اگر ضرورت پڑی تو انہوں نے بھیڑ بکری کی طرح اپنے سر خدا کی راہ میں رکھ دئیے۔وہ شدائد و مصائب جو ان کو پہنچ رہے تھے ان کے برداشت کرنے کی قوت اور طاقت ان کو کیونکرملی؟ اس میں یہی سِرّ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلقات بہت گہرے ہو گئے تھے۔انہوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تھا جو آپؐ لے کر آئے تھے اور پھر دنیا اور اس کی ہر ایک چیز ان کی نگاہ میں خدا تعالیٰ کے لقا کے مقابلہ میں کچھ ہستی رکھتی ہی نہیں تھی۔یاد رکھو کہ جب سچائی پورے طور پر اپنا اثرپیدا کر لیتی ہے تو وہ ایک نور ہو جاتی ہے جو کہ ہر تاریکی میں اس کے اختیار کرنے والے کے لیے رہنما ہوتا ہے اور ہر مشکل میں بچاتا ہے۔ذاتی حملے عجز کا ثبوت ہیں ذاتی حملوں کا جو بغض اور حسد کی بنا پر کئے جاتے ہیں اور سچائی کے مقابلہ سے عاجز آکر کمینہ اور سفیہ لوگ کرتے ہیں،ان پر ہی اثر ہوتا ہے جنہوں نے سچائی کی حقیقت کو نہیں سمجھا ہوتا اور سچائی نے ان کے دل کو منور نہیں کیا ہوتا!! یہ بالکل سچی بات ہے کہ انسان اس حد تک پژمردہ ہوتا ہے جب تک سچائی کو سمجھا ہوا نہیں۔جوں جوں وہ اسے سمجھتا جاتا ہے اس میںایک تازگی اور شگفتگی آتی جاتی ہے اور روشنی کی طرف آجاتا ہے۔یہاں تک کہ جب بالکل سمجھ لیتا ہے پھر تاریکی اس کے پاس نہیں آتی ہے۔تاریکی تاریکی کو پیدا کرتی ہے۔اندرونی روشنی اور روشنی کو لاتی ہے۔اسی واسطے تاریکی کو شیطان سے تشبیہ دی ہے اور روشنی روح القدس