ملفوظات (جلد 2) — Page 139
مؤکّد کی جاتی ہے۔پھر قرآن شریف ہمارے ساتھ ہے احادیث ہمارے ساتھ ہیں، عقل اور قانونِ قدرت ہماری تائید کرتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر ہزاروں آسمانی نشان ہماری تائید میں ظاہر ہوئے۔وہ نشانات بھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور پیشگوئی بیان فرمائے تھے پورے ہوئے اور ان کے علاوہ اور صد ہا نشانات خود ہمارے ہاتھ پر پورے ہوئے۔اب جبکہ یہ چاروں طرف سے گھر گئے یعنی زمانہ شہادت دے اٹھا کہ اس وقت مامور من اللہ کی ضرورت ہے اور ضرورتِ وقت اور واقعات پیش آمدہ نے بتا دیا کہ یہ زمانہ مسیح موعود ہی کا ہے اور اس کی تائید بزرگان ملّت کے کشوف رؤیا اور الہامات سے بھی ہو گئی اور قرآن شریف ہماری ہی تائید میں ثابت ہوا اور دن بدن اس سلسلہ کی ترقی بھی ہوتی جاتی ہے۔تب ان مخالفوں نے یہ چال بدلی کہ اور تو کہیں ہاتھ پڑنے کی جگہ باقی نہیں ہے ذاتیات پر ہی گفتگو شروع کر دی اس خیال سے کہ انسان جلد تر اس طرز سے متاثر ہو جاتا ہے مگر کیا ان احمقوںکو یہ معلوم نہیں ہے کہ عیسائی بھی ایسے ہی اعتراض کرتے ہیں۔آریوں کی ایک چھوٹی سی کتاب میں نے دیکھی ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق انہوں نے لکھی ہے۔انہوں نے اس میں بہت سے اعتراض کیے ہیں کہ بہت سے بچے انہوں نے قتل کرا دیئے۔مصریوں کا مال لے گئے۔وعدہ خلافی کی ،جھوٹ بولا معاذ اللہ۔غرض بڑے سے بڑا گناہ نہیں جو ان کے ذمہ نہ لگایا گیا ہو۔گویا وہ ان کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔میں کہہ چکا ہوںکہ جب یہ لوگ نبوت کے طریق پر کامیاب نہیں ہوتے اور کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے تو یہ ایسے ہی اعتراض کر دیا کرتے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق جو کتاب یہاں پڑھی گئی تھی اس نے کیا کسر باقی رکھی ہے اور ایسا ہی وہ اخبار جو آزاد خیال لوگوں کا یہاں آتا ہے وہ کس قدر ہنسی اڑاتا ہے۔قاعدہ کی بات ہے کہ صدق اور سچائی کے شعلے دم لینے نہیں دیتے تو موٹی عقل والوں کو یہ لوگ یوں دھوکہ دینے لگتے ہیں اور اپنے خیال میں ایک حد تک یہ لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں۔جس قدر عیسائی ہوتے ہیں اس کا یہی باعث ہے۔جب تک انسان کو ان علوم پر اطلاع نہ ہو جو تسلی اور اطمینان کا موجب ہوتے ہیں اور انسان کو یقین کی حد تک پہنچاتے ہیں ایسے خطرات اور توہمات کے