ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 138

ساتھ ہی دوسری روشنی بھی پیدا کر دی ہے کیونکہ یہ نور دوسرے نور کا محتاج ہے۔اسی طرح اپنی عقل جب تک آسمانی نور اور بصیرت اس کے ساتھ نہ ہو کچھ کام نہیں دے سکتی۔نادان ہے وہ شخص جو کہتا ہے ہم مجرد عقل سے بھی کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔خدا نے جو طریق مقرر کیا ہے۔اس کو حقارت کی نگاہ سے مت دیکھو۔بہت سے اسرار اور امور ہیں جو مجھ پر کھولے گئے ہیں اگر میں ان کو بیان کروں تو خاص آدمیوں کے سوا جو صحبت میں رہتے ہیں باقی حیران رہ جائیں۔پس ان لوگوں کو دیکھ کر حیرت اور رونا آتا ہے جو کسی صادق کی پاک صحبت میں نہیں رہے۔ان لوگوں کو جو ذاتیات پر اعتراض کرتے ہیں۔ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ وہ کوئی ایک اعتراض تو دکھائیں جو پہلے کسی نبی پر نہ کیا گیا ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو اعتراض آریوں نے کیے ہیں کیا وہ ان اعتراضوں سے جو مجھ پر ہوئے بڑھے ہوئے نہیں ہیں؟ حضرت مسیح پر یہودیوں نے جس قدر اعتراض کیے ہیں یا آریوں نے کئے ہیں۔وہ دیکھو کس قدر ہیں؟اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر جس قدر الزام لگائے جاتے ہیںان کا شمار تو کرو۔منہاجِ نبوت پر قائم سلسلہ کی مخالفت ہاں منہاج نبوت پر جو سلسلہ قائم ہو گا۔ضرور ہے کہ اس پر ایسے الزام لگائے جاویں۔مگر آخر خدا تعالیٰ اپنے مامور مقبول اور مطہر کی تطہیر کر دیتا ہے اور دکھا دیتا ہے کہ وہ ان الزاموں سے بالکل پاک ہے۔معترض کی آنکھ اور دل نے دھوکہ کھایا ہے۔یہ لوگ جو اصل مقصد کو چھوڑ کر ذاتیات پر اعتراض کرنے لگے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ خدا کا فرستادہ اپنے ساتھ دلائل اور براہین پر زور رکھتا ہے۔اس کی ہر ایک بات پکی اور محکم ہوتی ہے اور ایسے تائیدی نشان اس کے لئے ظاہر ہوتے ہیں کہ دوسرے ان سے عاجز رہ جاتے ہیں اس لئے مخالف جب کوئی راہِ گریز نہیں پاتے تو رکیک عذر کرنے لگتے ہیں اور بیہودہ نکتہ چینیاں شروع کر تے ہیں جن میں سے اکثر تو افترا ہوتے ہیں اور بعض ایسے امور اور معاملات ہوتے ہیں جو کہ ان کے قصور فہم کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اسی طرح پر جب ہمارے مخالفوں نے دیکھا کہ جو بات ہے وہ معقول ہے اور دلائل اور براہین کے ساتھ