ملفوظات (جلد 2) — Page 137
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۷ جلد دوم کر چکے ہیں تو یہ لوگ اس قسم کے تھے جو دوسروں کے اعتراضات سے متاثر ہو گئے اور ایمان کمزور ہو گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے مذہب کو ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے اور عیسائیت کو قبول کر لیا۔ سراج الدین عیسائی بھی ایسے ہی آدمیوں میں سے تھا۔ یہ لوگ کسی صادق کی صحبت میں کامل زمانہ نہیں گزارتے اور طرح طرح کی خواہشوں کے اسیر اور پابند ہو کر اپنے مذہب اور ایمان جیسی قیمتی چیز کے بدلے عیسائیت خرید لیتے ہیں۔ غرض میرے دشمنوں اور مخالفوں کی تعداد ابھی ایسی خطر ناک پیدا نہیں ہوئی جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن اسلام میں سے نکل کر پیدا ہو گئے ہیں ۔ صفدر علی اور عمادالدین وغیرہ نے کون سی کسر باقی رکھی ہے اور میں تو سچ کہتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ مجھے اپنی دشمنی اور اپنی تو ہین یا عزت اور تعظیم کا تو کچھ بھی خیال نہیں ہے۔ میرے لئے جو امرسخت ناگوار ہے اور ملال خاطر کا موجب ہمیشہ رہا ہے وہ یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل اور پاک انسان کی تو ہین کی جاتی ہے۔ اس صادقوں کے سردار سراسر صدق کو کاذب کہا جاتا ہے۔ یہ امر ہے جو میرے لیے ہمیشہ غم کا باعث رہا ہے۔ اس لئے میں اسی فکر میں رہتا ہوں کہ اس مردہ پرست قوم کے دجل اور مکر کو کھول کر ایسا دکھا دیا جائے کہ سب کھلا کھلا دیکھ لیں۔ کل مجھے خیال آیا کہ مسیح موعود کے کام میں يَكْسِرُ الصَّليب تو آیا ہے پر يَقْتُلُ الْخَنْزِير کیوں آیا ہے۔ تو یہی سمجھ میں آیا کہ یہ تفنن عبارت کے طور پر آیا ہے۔ وہ لوگ جو مرتد ہوئے ہیں ان کے مادے چونکہ خراب تھے اس لئے ایسے بدا اتفاق بھی ان کو پیش آتے گئے یہاں تک کہ آخر مرتد ہو گئے اور صرف اپنے نفس کے غلام ہو کر زندگی بسر کرنے لگے۔ تریاقی صحبت وہ آدمی جو کی تریاقی صحبت میں رہے اور اس طرح رہے جو رہنے کا حق ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس کو ایسے زہروں سے بچا لیتا ہے اور یہ بات کہ انبیاء علیہم السلام کی یا آسمانی کتابوں کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ بہت صاف امر ہے ۔ دیکھو! آنکھ میں بھی ایک روشنی اور نور ہے لیکن وہ سورج کی روشنی کے بغیر دیکھ نہیں سکتی ۔ آنکھ خدا نے دی ہے