ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 134

کے دروازے بند ہیں۔مامورمن اللہ کی صحبت ضروری ہے ہماری جماعت کے لئے یہ امر ضروری پڑا ہوا ہے کہ وہ اپنے وقتوں میں کچھ وقت نکال کر آئیں اور یہاں صحبت میں رہ کر اس غفلت کی تلافی کریں جو غیبوبت کے زمانہ میں پیدا ہوئی ہے اور اُن شبہات کو دور کریں جو اس غفلت کا باعث ہوئے ہیں۔اُن کا حق ہے کہ وہ اُن کو پیش کریں اور اُن کا جواب ہم سے سنیں۔بھلا اگر کمزور بچہ جو ابھی دودھ پینے اور ماں کے کنارِ عاطفت کا محتاج ہے اس سے الگ کردیا جائے تو تم اُمید کرسکتے ہو کہ وہ بچ رہے گا۔کبھی نہیں۔اسی طرح بلوغ سے پیشتر کے کمال اور معرفت کا حال ہے۔انسان کمزور بچہ کی طرح ہوتا ہے۔مامور من اللہ کی صحبت اس کے لئے ضروری ہوتی ہے۔اگر وہ اس سے الگ ہوجائے تو اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوتاہے۔مرکز میں باربارآنے کی ضرورت درحقیقت یہ ایک بہت ہی ضروری امر ہے۔اگر خدا تعالیٰ کسی کو توفیق دے اور وہ اس کوسمجھ لے کہ بار بار آنے کی کس قدر ضرورت ہے اس سے یہی نہ ہوگا کہ وہ اپنے نفس کے لئے فائدہ پہنچائے گا بلکہ بہتوں کوفائدہ پہنچا سکے گا کیونکہ جب تک خود ایک معرفت اور بصیرت پیدا نہ ہو وہ دوسروں کو کیا راہ بتائے گا۔یہی وجہ ہوتی ہے کہ بعض شریرالطبع لوگ ایسے آدمیوں کو جن کو بار بار آنے کی عادت نہیںکوئی سوال کرتے ہیں چونکہ انہوں نے جوابات سُنے ہوئے نہیں ہوتے اور ساکت ہوکر نہ خود خفت اُٹھاتے ہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی جو دیکھنے سُننے والے ہوتے ہیں ٹھوکر کا موجب ہوجاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس خفت اور سکوت سے ایمان پر ایک زد پڑتی ہے اور اس میں کمزوری شروع ہوتی ہے کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان مغلوب ہوجاتا ہے تو وہ غالب کے اثر سے بھی متاثر ہوجاتا ہے۔بسا اوقات اُس کے دل کو وہ اثر سیاہ کردیتا ہے اور پھر قاعدہ کے موافق وہ تاریکی بڑھنے لگتی ہے یہاں تک کہ اگر اُسی میں اُس کو موت آجائے تو وہ جہنم میںداخل ہوا۔ان ساری باتوں پر غور کرکے ایک دانش مند اس نتیجہ پر ضرور پہنچے گا کہ اس بات کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ ان زہروں