ملفوظات (جلد 2) — Page 134
ملفوظات حضرت مسیح موعود کے دروازے بند ہیں ۔ ۱۳۴ جلد دوم ہماری جماعت کے لئے یہ امر ضروری پڑا ہوا ہے کہ ما مور من اللہ کی صحبت ضروری ہے وہ اپنے وقوں میں کچھ وقت نکل کر آئیں اور یہاں صحبت میں رہ کر اس غفلت کی تلافی کریں جو غیبو بت کے زمانہ میں پیدا ہوئی ہے اور ان شبہات کو دور کریں جو اس غفلت کا باعث ۔ اعث ہوئے ہیں ۔ اُن کا حق ہے کہ وہ اُن کو پیش کریں اور اُن کا جواب ہم سے سنیں ۔ بھلا اگر کمزور بچہ جو ابھی دودھ پینے اور ماں کے کنارِ عاطفت کا محتاج ہے اس سے الگ کر دیا جائے تو تم اُمید کر سکتے ہو کہ وہ بچ رہے گا۔ کبھی نہیں ۔ اسی طرح بلوغ سے پیشتر کے کمال اور معرفت کا حال ہے۔ انسان کمزور بچہ کی طرح ہوتا ہے۔ مامور من اللہ کی صحبت اس کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ اگر وہ اس سے الگ ہو جائے تو اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ مرکز میں بار بار آنے کی ضرورت در حقیقت یہ ایک بہت ہی ضروری امر ہے۔ اگر ارتقای کیک توفیق دے اور اس کو مجھ سے کہ بار بار وہ آنے کی کس قدر ضرورت ہے اس سے یہی نہ ہوگا کہ وہ اپنے نفس کے لئے فائدہ پہنچائے گا بلکہ بہتوں کو فائدہ پہنچا سکے گا کیونکہ جب تک خود ایک معرفت اور بصیرت پیدا نہ ہو وہ دوسروں کو کیا راہ بتائے گا۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ بعض شریر الطبع لوگ ایسے آدمیوں کو جن کو بار بار آنے کی عادت نہیں کوئی سوال کرتے ہیں چونکہ انہوں نے جوابات سنے ہوئے نہیں ہوتے اور ساکت ہو کر نہ خود خفت اُٹھاتے ہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی جو دیکھنے سننے والے ہوتے ہیں ٹھوکر کا موجب ہو جاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس خفت اور سکوت سے ایمان پر ایک زد پڑتی ہے اور اس میں کمزوری شروع ہوتی ہے کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان مغلوب ہو جاتا ہے تو وہ غالب کے اثر سے بھی متاثر ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات اُس کے دل کو وہ اثر سیاہ کر دیتا ہے اور پھر قاعدہ کے موافق وہ تاریکی بڑھنے لگتی ہے یہاں تک کہ اگر اُسی میں اُس کو موت آجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوا۔ ان ساری باتوں پر غور کر کے ایک دانش مند اس نتیجہ پر ضرور پہنچے گا کہ اس بات کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ ان زہروں