ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 130

آخری فرقہ نصاریٰ کا رکھا ہے۔اب دیکھو کہ اس میں کس قدر لوگ داخل ہوگئے ہیں۔ایک بشپ نے اپنی تقریر میں ذکر کیا ہے کہ بیس۲۰۰۰۰۰۰ لاکھ مسلمان مرتد ہوچکے ہیں اور یہ قوم جس زور شور کے ساتھ نکلی ہے اور جو جو طریق اُس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے اختیار کیے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی عظیم الشان فتنہ نہیں ہے۔اب دیکھو کہ تین باتوں میں سے ایک تو ظاہر ہوگئی۔پھر دوسری قوم مغضوب ہے۔مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وقت بھی آگیا اور وہ بھی پورا ہورہا ہے۔یہودیوں پر غضبِ الٰہی اس دنیا میں بھی بھڑکا اور طاعون نے اُن کو تباہ کیا۔اب اپنی بدکاریوں اور فسق وفجور کی وجہ سے طاعون بکثرت پھیل رہی ہے۔کتمانِ حق سے وہ لوگ جو عالم کہلاتے ہیں نہیں ڈرتے۔اب ان دونوں کے پورا ہونے سے تیسرے کا پتہ صاف ملتا ہے۔انسان کا قاعدہ ہے کہ جب چار میں سے تین معلوم ہوں تو چوتھی شے معلوم کرلیتا ہے اور اس پر اس کو اُمید ہوجاتی ہے۔نصاریٰ میں لاکھوں داخل ہوگئے۔مغضوب میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔منعم علیہ کا نمونہ بھی اب خدادکھانا چاہتا ہے جب کہ سورۂ فاتحہ میں دعا تھی اور سورۂ نور میں وعدہ کیا گیا ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ نور میں دعا قبول ہوگئی ہے۔غرض اب تیسرا حصہ منعم علیہ کا ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کو روشن طور پر ظاہر کردے گا اور یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے جو ہوکررہے گا مگر اللہ تعالیٰ انسان کو ثواب میں داخل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ استحقاق جنت کاثابت کرلیں جیسا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میںہوا۔خدا تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ وہ صحابہؓ کے بدوں ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرقسم کی فتوحات عطافرماتا مگر نہیں خدا نے صحابہؓ کو شامل کرلیا تاکہ وہ مقبول ٹھہریں۔اس سنّت کے موافق یہ بات ہماری جماعت کو پیش آگئی ہے کہ بار بار تکلیف دی جاتی ہے اور چندے مانگے جاتے ہیں۔ہمارے دو ضروری کام اس وقت ہمارے دو بڑے ضروری کام ہیں۔ایک یہ کہ عرب میں اشاعت ہو دوسرے یورپ پر اتمامِ حجت کریں۔عرب پر اس لئے کہ اندرونی طور پر وہ حق رکھتے ہیں۔ایک بہت بڑاحصہ ایساہوگا کہ اُن کو معلوم بھی نہ ہوگا کہ خد