ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 129

لیا۔جیسے وہاں ابتدا اور انتہا بتائی یہاں بھی یہ بتادیا کہ ابتدامثیل موسٰی سے ہوگی اور انتہا مثیل عیسٰیؑ پر۔گویا خاتم الخلفاء وہی ہے جس کو دوسرے لفظوں میںمسیح موعود کہتے ہیں۔موعود اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا وعدہ کیاگیا ہے وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (النّور:۵۶) آیت استخلاف میںمسیح موعود کی پیشگوئی خلفاء کے تقرر کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا اسی وعدہ میں وہ خاتم الخلفاء بھی شامل ہے اورنصِ قرآنی سے ثابت ہوا کہ وہ موعود ہے۔جو خط ایک نقطہ سے شروع ہو گا وہ ختم بھی نقطہ پر ہی ہو گا۔پس جیسے وہاں خاتم مسیح ہے یہاں بھی وہ خاتم الخلفاء ہے۔اس لئے یہ اعتقاد اسی قسم کا ہے کہ اگر کوئی انکار کرے کہ اس امت میں مسیح موعود نہ ہو گا وہ قرآن سے انکار کرتا ہے اور اس کا ایمان جاتا رہے گا اور یہ بالکل واضح بات ہے اس میں تکلّف اور تصنّع اور بناوٹ کا نام نہیں ہے پھر جو شک وشبہ کرے وہ قرآن شریف کو چھوڑتا ہے۔سورۃ فاتحہ میں منعمین کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ا س کو کئی سورتوں میں بیان کردیا ہے۔اول تو یہی سورۂ نور۔دوسری سورۂ فاتحہ جس کو ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں۔اس سورۃ میں تین گزشتہ فرقے پیش کیے ہیں۔ایک وہ جو اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق ہیں۔دُوسرے مغضوب، تیسرے ضالّین۔مغضوب سے یہ مخصوصاً مراد نہیں کہ قیامت میں ہی غضب ہوگا کیونکہ جو کتاب اللہ کو چھوڑتا اور احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتا ہے ان سب پر غضب ہوگا مغضوب سے مراد بالاتفاق یہود ہیں اورالضَّآلِّيْنَ سے نصاریٰ۔اب اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ منعم علیہ فرقہ میں داخل ہونے اور باقی دو سے بچنے کے لئے دعا ہے اور یہ سنّت اللہ ٹھہری ہوئی ہے۔جب سے نبوت کی بنیادڈالی گئی ہے خدا تعالیٰ نے یہ قانون مقررکررکھا ہے کہ جب وہ کسی قوم کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیتا ہے تو بعض اس کی تعمیل کرنے والے اور بعض خلاف ورزی کرنے والے ضرور ہوتے ہیں۔پس بعض منعم علیہ، بعض مغضوب اور بعض ضالین ضرور ہوں گے۔اب زمانہ بآواز بلند کہتا ہے کہ اس سورۂ شریف کے موافق ترتیب آخر سے شروع ہوگئی ہے۔