ملفوظات (جلد 2) — Page 123
جائیں۔جیساکہ امیرلوگوں کے پاس بہت مال و دولت دیکھ کر انسان کہے کہ یہی پرورش کرنے والے ہیں۔شیطانی وساوس کا علاج اس واسطے حقیقی رَبُّ النَّاسِ کی پناہ چاہنے کے واسطے فرمایا۔پھر دُنیوی بادشاہوں اور حاکموں کو انسان مختارِ مطلق کہنے لگ جاتا ہے۔اس پر فرمایا کہ مَلِکِ النَّاسِ( النّاس : ۳) اللہ ہی ہے۔پھر لوگوں کے ان وساوس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ مخلوق کو خدا کے برابر ماننے لگ پڑتے ہیں اوران سے خوف و رجا رکھتے ہیں۔اس واسطے اِلٰہِ النَّاسِ فرمایا۔یہ تین وساوس ہیں۔ان کے دُور کرنے کے واسطے یہ تین تعویذ ہیں اور ان وساوس کے ڈالنے والا وہی خناس ہے، وہی جس کا نام توریت میں زبانِ عبرانی کے اندر ناحاش آیا ہے جو حوّا کے پاس آیا تھا چھپ کر حملہ کرنے والا۔اس سورۃ میں اسی کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوا کہ دجّال بھی جبر نہیں کرے گا بلکہ چھپ کر حملہ کرے گا تاکہ کسی کو خبر نہ ہو جیسا کہ پادریوں کا حملہ ہوتا ہے۔یہ غلط ہے کہ شیطان خود حوّا کے پاس گیا ہو بلکہ جیسا کہ اب چھپ کر آتا ہے ویسا ہی تب بھی چھپ کرگیا تھا۔کسی آدمی کے اندر وہ اپنا خیال بھردیتا ہے اور وہ اُس کا قائم مقام ہوجاتا ہے۔کسی ایسے ہی مخالفِ دین کے دل میں شیطان نے یہ بات ڈال دی تھی اور وہ بہشت جس میں حضر ت آدم ؑ رہتے تھے وہ بھی زمین پر ہی تھا۔کسی بدنے ان کے دل میں وسوسہ ڈال دیا۔قرآن شریف کی پہلی ہی سورت میں جو اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے کہ مغضوب علیہم اور ضالّین لوگوں میں سے نہ بننا۔یعنی اے مسلمانو! تم یہود اور نصاریٰ کے خصائل کو اختیار نہ کرنا۔اس میں سے بھی ایک پیشگوئی نکلتی ہے کہ بعض مسلمان ایسا کریں گے یعنی ایک زمانہ آوے گا کہ ان میں سے بعض یہود اور نصاریٰ کے خصائل اختیار کریں گے۔کیونکہ حکم ہمیشہ ایسے امر کے متعلق دیا جاتا ہے جس کی خلاف ورزی کرنے والے بعض لوگ ہوتے ہیں۔قرآن خاص وحی ہے فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سار اکلام وحی ہوتا تھا۔مگر قرآن شریف ایک خاص وحی ہوتا۔وہ ایک نور ہوتا۔۱ ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۹ ، ۱۰