ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 121

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۱ جلد دوم حضرت اقدس علیہ الصلوة حق جو کا حضرت اقدس سے خلوص و عقیدت کا اظہار والسلام نے اس تقریر کو یہاں ختم کیا۔ حق مجو صاحب کچھ عرصہ تک قادیان میں رہے۔ انہوں نے حضرت اقدس کی صحبت میں رہ کر جو فائدہ اُٹھایا۔ اُس کے اظہار کے لئے ہم اُن کے ایک خط کو جو اُ نہوں نے لاہور سے ہمارے نام بھیجا ہے یہاں درج کرتے ہیں ۔ مکرمی جناب شیخ صاحب تسلیم (1) میری بے ادبی معاف فرماویں۔ میں قادیان سے اچانک کچھ وجوہات رکھنے پر چلا آیا۔ میں اب یہاں سوچوں گا کہ مجھے اپنی زندگی پر لوک کے لئے کسی پہلو میں گزارنی ہے۔ میں آپ کی جماعت کی جدائی سے تکلیف محسوس کر رہا ہوں ۔ (۲) میں حضرت جی کے اخلاص کا حد درجہ مشکور ہوں اور جو کچھ روحانی اور جو کچھ روحانی دان مجھے نصیب ہوا اور دان : جو کچھ مجھ پر ظاہر ہوا اُس کے لئے نہایت ہی مشکور ہورہا ہوں ۔ مگر افسوس ہے دنیا میں سخت اندھکار ہے اور میں ایک ایک قدم پر گر رہا ہوں ۔ سوائے صحبت کے اس حالت کو قائم رکھنا میرے لئے بہت کٹھن ( دشوار ) ہے۔ (۳) اس بات پر میرا یقین ہے کہ بے شک حضرت صاحب روحانی بھلائی کے طالبوں کے لئے اعلیٰ نمونہ ہیں اور ان کی صحبت میں مستقل طور پر رہنا بڑا ضروری ہے۔ دنیا کی حالت ایسی ہے کہ موتیوں کو کیچڑ میں پھینکتے ہیں اور کوڑیاں جمع کرتے ہیں اور جو شخص موتی سنبھالنے لگے اس کے سر پر مٹی پھینک دیتے ہیں ۔ ہائے افسوس کہ وہ کوڑیوں کو بھی موتی سمجھے بیٹھے ہیں ۔ میں سخت گھبرایا ہوا ہوں ۔ ہاں میں کیا کروں اور کدھر جاؤں ۔ میری حالت بہت بری ہے۔ تمام جماعت کی خدمت میں آداب ۔ خصوصاً حضرت صاحب کی خدمت میں مؤدبانہ آداب عرض فرماویں اور میرے لیے حضرت صاحب اور تمام جماعت سے دعا کراویں۔ آپ کا نیازمند وزیر سنگھ