ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 118

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۸ جلد دوم سے قوت اور طاقت نہ ملے جس کو اسلامی اصطلاح کے موافق روح القدس کہتے ہیں کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔ یہ ایک قوت ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔ اُس کے نزول کے ساتھ ہی دل میں ایک سکینت آتی ہے اور طبیعت میں نیکی کے ساتھ ایک محبت اور پیار پیدا ہو جاتا ہے۔ جس نیکی کو دوسرے لوگ بڑی مشقت اور بوجھ سمجھ کر کرتے ہیں یہ ایک لذت اور سرور کے ساتھ اس کو کرنے کی طرف دوڑتا ہے۔ جیسے لذیذ چیز بچہ بھی شوق سے کھا لیتا ہے ۔ اسی طرح جب خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جاتا ہے اور اس کی پاک روح اس پر اترتی ہے پھر نیکیاں ایک لذیذ اور خوشبو دار شربت کی طرح ہوتی ہیں ۔ وہ خوبصورتی جو نیکیوں کے اندر موجود ہے اس کو نظر آنے لگتی ہے اور بے اختیار ہو ہو کر ان کی طرف دوڑتا ہے ۔ بدی کے تصور سے بھی اُس کی رُوح کانپ جاتی ہے۔ یہ امور اس قسم کے ہیں کہ ہم اُن کو الفاظ کے پیرا یہ میں پورے طور سے ادا نہیں کر سکتے کیونکہ یہ قلب کی حالتیں ہوتی ہیں ۔ محسوس کرنے سے ہی اُن کا ٹھیک پتہ لگتا ہے۔ اس وقت تازہ بتازہ انوار اس کو ملتے ہیں ۔ لو انسان صرف اس بات پر ہی ناز نہ کرے اور اپنی ترقی کی انتہاس کو ن سمجھ لے کہ کبھی رقت قلب کبھی اس کے اندر رقت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ رقت عارضی ہوتی ہے۔ انسان اکثر دفعہ ناول پڑھتا ہے اور اس کے درد انگیز حصہ پر پہنچ کر بے اختیار رو پڑتا ہے حالانکہ وہ صاف جانتا ہے کہ یہ ایک جھوٹی اور فرضی کہانی ہے۔ پس اگر محض رو پڑنا یا رقت کا پیدا ہو جانا ہی حقیقی سرور اور لذت کی جڑ ہوتی ہے تو آج یورپ سے بڑھ کر کوئی بھی روحانی لذت حاصل کرنے والا نہ ہوتا کیونکہ ہزار ہا ناول شائع ہوتے اور لاکھوں کروڑوں انسان پڑھ کر روتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک بات موجود ہے کہ ہنسی کے مقام پر ہنس پڑتا ہے اور رونے کے مقام پر رو بھی پڑتا ہے اور اُن سے مناسب موقع پر ایک لذت بھی اُٹھاتا ہے مگر یہ کوئی الحکم جلد ۵ نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۱ ء صفحه ۶،۵