ملفوظات (جلد 2) — Page 118
سے قوت اور طاقت نہ ملے جس کو اسلامی اصطلاح کے موافق رُوح القُدس کہتے ہیں کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔یہ ایک قوت ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔اُس کے نزول کے ساتھ ہی دل میں ایک سکینت آتی ہے اور طبیعت میں نیکی کے ساتھ ایک محبت اور پیار پیدا ہوجاتا ہے۔جس نیکی کو دوسرے لوگ بڑی مشقت اور بوجھ سمجھ کر کرتے ہیں یہ ایک لذّت اور سُرور کے ساتھ اس کو کرنے کی طرف دوڑتا ہے۔جیسے لذیذ چیز بچہ بھی شوق سے کھالیتا ہے۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ سے تعلق ہوجاتا ہے اور اس کی پاک رُوح اس پر اُترتی ہے پھر نیکیاں ایک لذیذ اور خوشبو دار شربت کی طرح ہوتی ہیں۔وہ خوبصورتی جو نیکیوں کے اندر موجود ہے اس کو نظر آنے لگتی ہے اور بے اختیار ہوہوکر ان کی طرف دوڑتا ہے۔بدی کے تصور سے بھی اُس کی رُوح کانپ جاتی ہے۔یہ اُمور اس قسم کے ہیں کہ ہم اُن کو الفاظ کے پیرایہ میں پورے طور سے ادا نہیں کرسکتے کیونکہ یہ قلب کی حالتیں ہوتی ہیں۔محسوس کرنے سے ہی اُن کا ٹھیک پتہ لگتا ہے۔اس وقت تازہ بتازہ اَنوار اس کو ملتے ہیں۔۱ رقّتِ قلب انسان صرف اس بات پر ہی ناز نہ کرے اور اپنی ترقی کی انتہا اسی کو نہ سمجھ لے کہ کبھی کبھی اس کے اندر رقّت پید اہوجاتی ہے۔یہ رقّت عارضی ہوتی ہے۔انسان اکثر دفعہ ناول پڑھتا ہے اور اس کے درد انگیز حصہ پر پہنچ کربے اختیار روپڑتا ہے حالانکہ وہ صاف جانتا ہے کہ یہ ایک جھوٹی اور فرضی کہانی ہے۔پس اگر محض روپڑنا یا رقّت کا پید اہوجانا ہی حقیقی سُرور اور لذّت کی جڑ ہوتی ہے تو آج یورپ سے بڑھ کرکوئی بھی رُوحانی لذّت حاصل کرنے والا نہ ہوتا کیونکہ ہزار ہا ناول شائع ہوتے اور لاکھوں کروڑوں انسان پڑھ کر روتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک بات موجود ہے کہ ہنسی کے مقام پر ہنس پڑتا ہے اور رونے کے مقام پر رو بھی پڑتا ہے اور اُن سے مناسب موقع پر ایک لذّت بھی اُٹھاتا ہے مگر یہ کوئی