ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 119

لذّت روحانی فیصلہ نہیں کرسکتی ہے۔کوئی کسی عورت پر عاشق ہوجاتا ہے اور اپنے فسق ہی میں اُس کے ہجر کے شعر بنابناکر خوش ہوتا ہے اور روتا ہے۔انسان کے اندر ایک طاقت ہے خواہ اُس کو محل پر استعمال کرے یا بے محل۔پس اس طاقت پر ہی بھروسہ کرکے نہ بیٹھ رہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت اس لیے رکھی ہے کہ سچے سائل محروم نہ ہوں اور جب یہ برمحل استعمال ہو تو ان کے لئے آنے والے رُوحانی مدارج کا ایک مقدمہ ہو اور یہ قویٰ کاکام دے۔غرض یہ اُمور کہ کبھی روپڑنا اور کبھی دنیا کی دوسری چیزوں اور تعلقات سے انقطاع کرنا یہ عارضی ہوتے ہیں اُن پر اعتبار کرکے بے دست و پانہ بنے۔سچی معرفت کی بنیاد وہ امور جن پر سچی معرفت کی بنا ہے یہ ہیں کہ وہ خد اکی راہ میں اگر باربار آزمایا جائے اور مصائب اور مشکلات کے دریا میں ڈالا جائے۔تب بھی ہرگز نہ گھبرائے اور قدم آگے ہی بڑھائے۔اس کے بعد اُس کی معرفت کا انکشاف ہوتا ہے اور یہی سچی نعمت، حقیقی راحت ہوتی ہے۔اس وقت دل میں ایک رِقّت پیدا ہوتی ہے مگر یہ رقّت عارضی نہیں ہوتی بلکہ سُرور اور لذّت سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔رُوح پانی کے ایک مصفّٰی چشمہ کی طرح خدا کی طرف بہتی ہے۔مدعا یہ ہے کہ سمندر کے پہلے ایک سراب آتا ہے وہ بھی سمندر ہی نظر آتا ہے۔جو سراب کو دھوکا سمجھ کر آگے چلنے سے رہ جاتا اور مایوس ہوکر بیٹھ جاتا ہے وہ ناکام اور نامراد رہتا ہے لیکن جو ہمت نہیں ہارتا اور قدم آگے بڑھاتا ہے وہ منزلِ مقصود پر پہنچ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے مختلف کیفیتیں انسانی روح کے اندر رکھی ہوئی ہیں۔اُن میں سے اس رقّت کی بھی ایک کیفیت ہے۔کوئی فقط شعر خوانی یا خوش الحانی ہی سے متاثر ہوجاتا ہے۔کوئی آگے چلتا ہے اور ان پر قانع نہ ہوکر صبر کے ساتھ اصل مرحلہ تک پہنچتا ہے۔یہ یادرکھو کہ سچائی کے طالب کے واسطے یہ شرط ہے کہ جہاں سے اسے سچائی ملے لے لے۔یہ ایک نور ہے جو اس کی رہبری کرتاہے۔اس وقت دنیا میں ایک کشاکش شروع ہے۔آریہ اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں۔برہمو الگ بُلاتے ہیں۔دیو سماج والے اپنی ہی طرف دعوت کرتے ہیں۔عیسائی ہیں وہ عیسائیت ہی کو پیش کرتے ہیں۔غرض ہر قوم اپنی