ملفوظات (جلد 2) — Page 113
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۳ جلد دوم کچھ پروا نہیں کرتا اور قدم آگے ہی بڑھاتا جاتا ہے۔ پس وہ انسان جو اس جوش اور خواہش کے وقت صبر سے کام لے اور یہ سمجھ لے کہ اس کو آخر عمر تک نبھانا ہے۔ وہ بہت ہی خوش طالع ہوتا ہے اور جو چند تجربہ کر کے رہ جاتا ہے اور تھک کر بیٹھ رہتا ہے تو اس کے ہاتھ میں صرف اتنا ہی رہ جاتا ہے کہ وہ کہتا پھرتا ہے کہ میں نے بہت سے باتونی دیکھے اور دوکاندار پائے ایک بھی حق نما اور خدا ثمانہ ملا۔ پس میری تو یہی نصیحت ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ہر ایک جو میرے پاس آتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خدا کے لئے آیا ہے اور خدا کو پانا چاہتا ہے ) اُس کا کیا حال ہے۔ اس کی نیت کیسی ہے مگر میں اتنا ضرور کہتا ہوں کہ جو اللہ تعالیٰ کی تلاش میں قدم اُٹھاوے سب سے اول اس کو لازم ہے کہ وہ صحیح عقائد کرلے ۔ یہ معلوم کہ یہ معلوم کرے کہ کس خدا کو وہ پانا چاہتا ہے آیا اس : خدا کو وہ پانا چاہتا ہے آیا اس خدا کی تلاش میں وہ ہے جو واقعی دنیا کا خالق اور مالک خدا ہے اور جو تمام صفات کا ملہ سے موصوف اور تمام بدیوں اور نقائص سے مبرا ہے یا کسی عورت کے بچے خدا کی تلاش میں ہے یا اور ایسے ہی کمزور اور ناتواں ۳۳ کروڑ خداؤں کا جو یا ہے کیونکہ اگر اصلی محبوب اور مقصود کنارے ہی پر پڑا رہے تو سمندر میں غوطہ زنی سے کیا حاصل؟ میں مثال کے طور پر کہتا ہوں مثلاً عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اس طرح پر جس طرح عام انسان پیدا ہوتے ہیں اور کھاتا پیتا ہگنتا مونتتا رہا۔ وہ خدا ہے۔ اب یہ تو ممکن ہے کہ ایک شخص کو اس سے محبت ہو لیکن انسانی دانش یہ کبھی تجویز نہیں کرتی کہ ایسا کمزور اور ناتواں انسان خدا بھی ہوتا ہے یا یہ کہ عورتوں کے پیٹ سے بھی خدا پیدا ہوا کرتے ہیں ۔ جب کہ پہلا ہی قدم باطل پر پڑا ہے تو دوسرے قدم کی حق پر پڑنے کی کیا اُمید ہوسکتی ہے۔ جو شعاعیں زندہ خدا، کامل صفات سے موصوف خدا کو مان کر دل پر پڑتی ہیں وہ ایک مرنے والی ہستی ، ضعف و ناتوانی کی تصویر پرستی سے کہاں؟؟؟ الطَّالِبُ لَا مَذْهَبَ لَهُ طالب کو تو سارے تعصب اور عقیدے چھوڑ دینے چاہئیں پھر وہ سچے عقائد کی طلب میں لگے تب بہتری کی اُمید ہو سکتی ہے۔ اس کے لئے بنیادی اینٹ خدا ہونی چاہیے۔