ملفوظات (جلد 2) — Page 112
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۲ جلد دوم رکھی جاتی ہے۔ وہ صبر اور حسنِ ظن ہے۔ جب تک ایک حیران کر دینے والا صبر نہ ہو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ جب انسان محض حق جوئی کے لئے تھکا نہ دینے والے صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور مجاہدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کے موافق اس پر ہدایت کی راہ کھول دیتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: ۷۰) یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر سعی اور مجاہدہ کرتے ہیں آخر ہم ان کو اپنی راہوں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ اُن پر دروازے کھولے جاتے ہیں۔ یہ سچی بات ہے کہ جوڈھونڈتے ہیں وہ پاتے ہیں ۔ کسی نے خوب کہا۔ اے خواجہ درد نیست وگرنه طبیب هست ع خدا جوئی کے آداب ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جوشخص ہمارے پاس آتا ہے اور کھڑا تا ہے اور کھڑا کھڑا بات کر کے چل دیتا ہے وہ گو یا خدا سے ہنسی کرتا ہے۔ یہ خدا جوئی کا طریق نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا قانون مقرر کیا ہے۔ پس اول شرط خدا جوئی کے لئے سچی طلب ہے۔ دوسری صبر کے ساتھ اس طلب میں لگے رہنا۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے اسی قدر تجربہ بڑھتا جاتا ہے۔ پھر معرفت کے لئے زیادہ دیر تک صحبت میں رہنا ضروری ہوا یا نہیں؟ میں نے بہت سے آدمی دیکھے ہیں جو اپنی اوائل عمر میں دنیا کو ترک کرتے اور چیختے اور چلاتے ہیں ۔ آخر ان کا انجام یہ دیکھا گیا کہ وہ دنیا میں منہمک پائے گئے اور دنیا کے کیڑے بن گئے ۔ دیکھو! بعض درختوں کو سٹیر و پھل لگا کرتے ہیں جیسے شہتوت کے درخت کو عارضی طور پر ایک پھل لگتا ہے آخر وہ سارے کا سارا گر جاتا ہے۔ اس کے بعد اصل پھل آتا ہے ۔ اسی طرح پر خدا جوئی بھی عارضی طور پر اندر پیدا ہوتی ہے۔ اگر صبر اور حسن ظن کے ساتھ صدق قدم نہ دکھایا جاوے تو وہ عارضی جوش ایک وقت میں آکر یہی نہیں کہ فرو ہو جاتا ہے بلکہ ہمیشہ کے لئے دل سے محو ہو جاتا ہے اور دنیا کا کیڑا بنا دیتا ہے لیکن اگر صدق و ثبات سے کام لیا جاوے تو اس عارضی جوش اور حق جوئی کی پیاس کے بعد واقعی اور حقیقی طور پر ایک طلب اور خواہش پیدا ہوتی ہے جو دن بدن ترقی کرتی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی راہ میں اگر مشکلات اور مصائب کا پہاڑ بھی آجائے تو وہ