ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 107

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۷ جلد دوم میرے کان میں پڑی ۔ میری روح نے غیر معمولی طور پر محسوس کیا کہ اس کلام میں لائٹ (نور) ہے اور یہ کہنے والا اپنے اندر روشنی ضرور رکھتا ہے۔ میں نے اس مضمون کو کئی مرتبہ پڑھا اور میرے دل میں قادیان آنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر لیکھرام کے قتل کے تازہ وقوعہ کے باعث لاہور میں میں اگر کسی مسلمان سے پتہ پوچھتا تھا تو وہ پتہ نہ بتاتا تھا۔ غالباً اس کو یہ وہم ہوتا ہوگا کہ شاید یہ مرزا صاحب کے قتل کو جاتا ہے۔ بہر حال میرے دل میں ایک کشمکش پیدا ہو رہی تھی ۔ اب وہ میری آرزو پوری ہوئی ہے اور میں اپنی زندگی کو بنانا چاہتا ہوں ۔ اسی غرض کے واسطے حضور کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ اس پر حضرت اقدس امام همام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یوں ارشاد فرمایا۔ اسلام کی حقیقت حقیت یہی ہے کہ انسان کو پست اور چھلکے پرشہر نانہیں چاہے اور نہ انسان پسند کرتا ہے کہ وہ صرف پوست پر قناعت کرے بلکہ وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے اور اسلام انسان کو اسی مغز اور روح پر پہنچانا چاہتا ہے جس کا وہ فطرتاً طلبگار ہے ۔ یہ نام ہی ایسا نام ہے کہ اس کوشن کر روح میں ایک لذت آتی ہے اور کسی مذہب کے نام سے کوئی تسلی روح میں پیدا نہیں ہوتی مثلاً آریہ کے نام سے کون سی روحانیت نکال ، نکالیں ۔ اسلام سکینت ، شانتی تسلی کے لئے بنایا گیا ہے جس کے واسطے انسان کی روح بھوکی پیاسی ہوتی ہے تا کہ اس نام کا سننے والا سمجھ لے کہ اس مذہب کا سچے دل سے ماننے والا اور اس پر عمل کرنے والا خدا کا عارف ہے مگر بات یہ ہے کہ اگر انسان چاہے کہ ایک دم میں سب کچھ ہو جائے اور معرفتِ الہی کے اعلیٰ مراتب پر یک دفعہ پہنچ جائے یہ کبھی نہیں ہوتا۔ دنیا میں ہر ایک کام تدریج سے ہوتا ہے۔ دیکھو کوئی علم اور فن ایسا نہیں جس کو انسان تامل اور توقف سے نہ سیکھتا ہو۔ ضروری ہے کہ سلسلہ وار مراتب کو طے کرے ۔ دیکھو! دیکھو ! زمیندار کو زمین میں بیج بو کر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اوّل وہ اپنی عزیز شے اناج کو زمین میں ڈال دیتا ہے جس کو فوراً جانور چگ جائیں یا مٹی کھا لے یا کسی اور طرح ضائع ہو جائے مگر تجربہ اس کو تسلی دیتا ہے کہ نہیں ایک وقت آتا ہے کہ یہ دانے جو اس طرح پر زمین کے سپرد کیے گئے ہیں بارور ہوں گے اور یہ