ملفوظات (جلد 2) — Page 106
مارچ ۱۹۰۱ء ایک متلاشیِ حق کا حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں آنا چند روز سے حضور مسیح موعود ؑ کی خدمت میں ایک حق جُو ضلع گجرات سے آیاہوا ہے۔اس نے عرض کی کہ مجھے ابتدا ہی سے دھرم بھاؤ اپنے اندر محسوس ہوتا تھا اور اُس کے موافق میں اپنے خیال میں بعض نیکیاں بھی کرتا رہا ہوں مگر مجھے دنیا اور اس کے طلبگاروں کو اپنے اردگرد دیکھ کربہت بڑی تکلیف محسوس ہوتی ہے اور اپنے اندر بھی ایک کشمکش پاتا ہوں۔مَیں ایک بار دریائے جہلم کے کنارے کنارے میں پھر رہا تھا کہ مجھے ایک عجیب نظارہ پریم (محبت) کا تھا مجھے ایک لذّت اور سُرور محسوس ہوتا تھا۔جس طرف نظر اُٹھاتا تھا آنند ہی آنند ملتا تھا۔کھانے میں ، پینے میں ، چلنے میں، پھرنے میں، غرض ہر ایک حرکت میں، ہراَدا میں پریم ہی پریم معلوم ہوتا تھا، چند گھنٹوں کے بعدیہ نظارہ تو جاتا رہا مگر اس کا بقیہ ضرور دو ماہ تک رہا۔یعنی اس نظارہ سے کم درجہ کا سرور دینے والا نظارہ۔اس وقت مَیں عجیب گھبراہٹ میں ہوں۔مَیں نے بہت کوشش کی کہ مَیں اِس کو پھر پاؤں مگر نہیں ملا۔اسی کی طلب اور تلاش میں مَیں لاہور بابو ابناش چندرفورمدار صاحب کے پاس آیا جو برہم سماج کے سرگرم ممبر ہیں۔مگر افسوس ہے کہ وہ مجھ سے بجز چند منٹ کے اور وہ بھی اپنے دفتر میں ہی نہ مل سکے۔پھر مَیں پنڈت شونرائن ستیاننداگنی ہوتری کے پاس گیا۔مَیں نے دیکھا کہ وہ لوگ کسی قدر روحانیت کو محسوس کرتے ہیں۔آخر مَیں کوئی دو مہینے تک ان کے ہائی سکول موگا میں بطور تھرڈ ماسٹر کام کرتا رہا اور اپنی اصلاح میں لگا رہا۔وہاں جانا میرا صرف اس مطلب کے لئے تھاکہ میں اپنی لائف کو بناؤں۔اس عرصہ میں کچھ مختصر سا نظارہ نظر آنے لگا مگر میری تسلی اور اطمینان نہیں ہوا۔جس شانتی اور پریم کا میں خواہش مند اور جو یا تھا وہ مجھے نہ ملا۔اگرچہ مَیں صبر کے ساتھ وہاں رہنا چاہتا تھا مگر بیمار ہوکر مجھے آنا پڑا۔مَیں نے اپنے شہر میں شیخ مولابخش صاحب کو ایک مرتبہ جلسۂ اعظم مذاہب والا آپ کامضمون پڑھتے ہوئے سنا۔میں اپنے خیال میں مَست اور متفکرجارہا تھا کہ اُن کی آواز