ملفوظات (جلد 2) — Page 105
سے ہوتی ہیں اُن پر حکم لگایا جاتا ہے۔اخلاص والے کو خداضائع نہیں کرتا فرمایا۔اخلاص والے کو خداضائع نہیں کرتا۔ہمارے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس جنگل میں پیدا ہوئے تھے۔پھر خدا نے کیا کیا سامان بنادیئے۔ایک آدمی کا قابو کرنا مشکل ہوتاہے۔کتنے آدمی آپؐکے ساتھ ہوگئے تھے۔ہمارے متعلق اللہ تعالیٰ کی وحی ہے ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘ آخرمرید ہی ہوں گے تو ایساکریں گے۔اس زمانہ میں دیکھو لوگ کیسی بے عزّتی کرتے ہیں مگراس زمانہ میں جو ثواب ہے وہ پھر نہ ہوگا۔۱ یکم مارچ ۱۹۰۱ء نماز کا اخلاص سے تعلق فرمایا۔نماز دعا اور اخلاص کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔مومن کے ساتھ کینہ جمع نہیں ہوتا۔متقی کے سوا دُوسرے کے پیچھے نماز کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔۲ ۳؍ مارچ ۱۹۰۱ء کمال ختم نہیں ہوتا فرمایا۔ختمِ ایمان یا ختمِ کمال نہیں ہوجاتا۔خدا کی جناب میں بخل نہیں۔جو رنگ ایک پر چڑھتا ہے وہ دوسرے پر چڑھ سکتا ہے۔اگر نبی کی بات دوسرے میں نہ آسکے تو اس کا وجود بے فائدہ ہو۔ایک صوفی ابن حزم نے لکھا ہے کہ مَیں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معانقہ کیا یہاں تک کہ مَیں خود رسول اللہ ہوگیا۔۳ ۱ ۲ ۳ الحکم جلد ۵نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ ؍ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحہ ۸ ، ۹