ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 104

ملفوظات حضرت مسیح موعود الد جلد دوم ظلی سلسلہ پیغمبروں کا اس اُمت میں قائم کرنا چاہتا ہے مگر جیسا کہ قرآن کریم میں سارے انبیاء کا ذکر نہیں اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کا ذکر کثرت سے ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس اُمت میں بھی مثیل موسیٰ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مثیل عیسی یعنی امام مہدی سب سے عظیم الشان اور خاص ذکر کے قابل ہیں۔ ۲۸ فروری ۱۹۰۱ء سے ہوا کرتی ہے انبیاء سے اجتہادی غلطی کا صدور فرمایا۔ اجتہادی غلطی سب یوں ہے: سادگی اور اس میں سب ہمارے شریک ہیں اور یہ ضرور ہے کہ ایسا ہوتا تا کہ بشر خدا نہ ہو جائے ۔ دیکھو! حضرت عیسی کے متعلق بھی یہ اعتراض بڑے زور شور سے یہود نے کیا ہے کہ اس نے کہا تھا کہ میں بادشاہت لے کر آیا ہوں اور وہ بات غلط نکلی ممکن ہے کہ حضرت مسیح کو یہ خیال آیا ہو کہ ہم بادشاہ بن جائیں گے چنانچہ تلواریں بھی خرید رکھی ہوئیں تھیں مگر یہ ان کی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ بعد اس کے خدا نے مطلع کر دیا اور انہوں نے اقرار کیا کہ میری بادشاہت روحانی ہے۔ انسان کا فخر ہوتا ہے۔ حضرت عیسی نے جو کہا سو سادگی سے کہا۔ اس سے ان کی خفت اور بے عراقی نہیں ہوتی۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہ سمجھا تھا کہ ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی مگر ہجرت مدینہ طیبہ کی طرف ہوئی اور انگوروں کے متعلق آپ نے یہ سمجھا تھا کہ ابو جہل کے واسطے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ عکرمہ کے واسطے ہیں۔ انبیاء کے علم میں بھی تدریجاً ترقی ہوتی ہے۔ اس واسطے قرآن شریف میں آیا ہے قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ( طه : ۱۱۵) یہ آپ کا کمال اور قلب کی طہارت تھی جو آپ اپنی غلطی کا اقرار کرتے تھے۔ اس میں انبیاء کی خفت کچھ نہیں ۔ ایک حکیم ہزاروں بیماروں کا علاج کرتا ہے۔ اگر ایک اُن میں سے مر جائے تو کیا حرج ہے۔ اس سے اُس کی حکمت میں کچھ داغ نہیں آجاتا ہے۔ کبھی حافظ قرآن کو پیچھے سے لقمہ دیا جاتا ہے تو اس سے یہ نہیں کہا جاتا کہ اب وہ حافظ نہیں رہا۔ جو باتیں متواترات اور کثرت الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحه ۸