ملفوظات (جلد 2) — Page 104
ظِلّی سلسلہپیغمبروں کا اس اُمت میں قائم کرناچاہتا ہے مگر جیسا کہ قرآن کریم میں سارے انبیاء کا ذکر نہیں اور حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰیؑ کا ذکر کثرت سے ہے۔اس سے ثابت ہوتاہے کہ اس اُمت میں بھی مثیل موسیٰ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مثیل عیسیٰ یعنی امام مہدی سب سے عظیم الشان اور خاص ذکرکے قابل ہیں۔۱ ۲۸؍ فروری ۱۹۰۱ء انبیاء سے اجتہادی غلطی کا صدور فرمایا۔اجتہادی غلطی سب نبیوں سے ہو اکرتی ہے اوراس میں سب ہمارے شریک ہیں اور یہ ضرور ہے کہ ایسا ہوتا تاکہ بشرخدانہ ہوجائے۔دیکھو! حضرت عیسٰیؑ کے متعلق بھی یہ اعتراض بڑے زور شور سے یہود نے کیا ہے کہ اس نے کہا تھا کہ میں بادشاہت لے کر آیا ہوں اور وہ بات غلط نکلی۔ممکن ہے کہ حضرت مسیحؑ کو یہ خیال آیا ہو کہ ہم بادشاہ بن جائیں گے چنانچہ تلواریں بھی خریدرکھی ہوئیں تھیں مگر یہ اُن کی ایک اجتہادی غلطی تھی۔بعد اس کے خدا نے مطلع کردیا اور انہوں نے اقرارکیا کہ میری بادشاہت روحانی ہے۔سادگی انسان کا فخر ہوتاہے۔حضرت عیسیٰ ؑ نے جو کہا سو سادگی سے کہا۔اس سے ان کی خفت اور بے عزّتی نہیں ہوتی۔ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہ سمجھا تھا کہ ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی مگر ہجرت مدینہ طیبہ کی طرف ہوئی اور انگوروں کے متعلق آپؐ نے یہ سمجھا تھا کہ ابوجہل کے واسطے ہیں۔بعد میں معلوم ہو اکہ عکرمہ کے واسطے ہیں۔انبیاء کے علم میں بھی تدریجاً ترقی ہوتی ہے۔اس واسطے قرآن شریف میں آیا ہےقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا( طٰہٰ :۱۱۵) یہ آپؐکا کمال اور قلب کی طہارت تھی جو آپؐاپنی غلطی کا اقرار کرتے تھے۔اس میں انبیاء کی خِفّت کچھ نہیں۔ایک حکیم ہزاروں بیماروں کا علاج کرتا ہے۔اگر ایک اُن میں سے مَرجائے تو کیا حرج ہے۔اس سے اُس کی حکمت میں کچھ داغ نہیں آجاتا ہے۔کبھی حافظ قرآن کو پیچھے سے لقمہ دیا جاتا ہے تو اس سے یہ نہیں کہا جاتا کہ اب وہ حافظ نہیں رہا۔جو باتیں متواترات اور کثرت سے ۱ الحکم جلد ۵نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ ؍ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحہ ۸