ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 101

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۱ جلد دوم ہوا۔ معجزات کے ہزاروں منکر ہوتے ہیں۔ اخلاق کا منکر کوئی نہیں۔ طالب ہو کر اصلی اور جگری حالات کو دریافت کرنا چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ آریہ لوگوں نے حضرت رسول کریم پر اس قدر اعتراض کیسے ہیں لیکن اگر ان لوگوں کو آپ کے اصلی حالات اور اخلاق کریمہ کے صحیح جز مل جاتے تو یہ کبھی ایسی جرات نہ کرتے ۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاق کے دو پہلو دکھلائے ۔ ایک مکی زندگی جبکہ آپ کے دمی تھے اور کچھ قوت نہ تھی۔ دوسرا مدنی زندگی میں جبکہ آپ فاتح ہوئے اور وہی کفار جو آپ کو تکالیف دیتے تھے اور آپ ان کی ایذا دہی پر صبر کرتے تھے اب آپ کے قابو میں آگئے ایسا کہ جو چاہتے آپ ان کو سزا دے سکتے تھے مگر آپ نے لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (يوسف : ۹۳) کہہ کر ان کو چھوڑ دیا اور کچھ سزا نہ دی ۔ ہمیں حضرت مسیح پر ایمان ہے اور ان کے ساتھ محبت ہے۔ مگر یہ کہنے میں ہم لاچار ہیں کہ اُن کو اپنے مخالفین پر قدرت اور طاقت نہیں ہوئی اور ان کو یہ موقع نہیں ملا کہ دشمن پر قابو پا کر پھر اپنے اخلاق کا اظہار کریں اور اگر ان کو یہ موقع ملتا تو معلوم نہیں وہ کیا کرتے۔ سچا مسلمان وہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آوے۔ میں دو باتوں کے پیچھے لگا ہوا ہوں ۔ ایک یہ کہ اپنی جماعت کے واسطے دعا کروں ۔ دعا تو ہمیشہ کی جاتی ہے مگر ایک نہایت جوش کی دعا جس کا موقع کبھی مجھے مل جائے اور دوم یہ کہ قرآن شریف کا ایک خلاصہ ان کو لکھ دوں ۔ کی دعا کا کبھی یہ کہ لکھ قرآن شریف میں سب کچھ ہے مگر جب تک بصیرت نہ ہو کچھ حاصل قرآن کریم کا اعجاز نہیں ہوسکتا۔ قرآن شریف کو پڑھنے والا جب ایک سال سے دوسرے سال میں ترقی کرتا ہے تو وہ اپنے گذشتہ سال کو ایسا معلوم کرتا ہے کہ گویا وہ تب ایک طفل مکتب تھا۔ کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام اور اس میں ترقی بھی ایسی ہی ہے۔ جن لوگوں نے قرآن شریف کو ذوالوجوہ کہا ہے میں اُن کو پسند نہیں کرتا ۔ اُنہوں نے قرآن شریف کی عزت نہیں کی ۔ قرآن شریف کو ذوالمعارف کہنا چاہیے۔ ہر مقام میں سے کئی معارف نکلتے ہیں اور ایک نکتہ