ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 100

کے تمام محنت بے فائدہ ہے۔خالصتہً لِلہ کام کرنا چاہیے۔کوئی اور غرض درمیان میں نہ آوے۔۱ ۲۵؍ فروری ۱۹۰۱ء جماعت کو اہم نصیحت اپنی جماعت کے لوگوں کو باہم محبت کرنے اور روحانی کمزوریوں کے سامنے نرمی کا برتاؤ کرنے کا حکم کرتے ہوئے اور اُس دردِ دل کا اظہار کرتے ہوئے جو کہ آپ کو اپنی جماعت کی بہتری کے واسطے ہے فرمایا۔مَیں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے میں سے کمزور اور کچے لوگوں پر رحم کریں۔اُن کی کمزوری کو دُور کرنے کی کوشش کریں۔اُن پر سختی نہ کریں اور کسی کے ساتھ بداخلاقی سے پیش نہ آئیں بلکہ اُن کو سمجھائیں۔دیکھو! صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان بھی بعض منافق آکر مل جاتے تھے پرحضرت رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرتے چنانچہ عبداللہ ابن اُبی جس نے کہا تھا کہ غالب لوگ ذلیل لوگوں کو یہاں سے نکال دیں گے چنانچہ سورۂ منافقون میں درج ہے اور اس سے مُراد اس کی یہ تھی کہ کفار مسلمانوں کو نکال دیں گے۔اس کے مَرنے پر حضرت رسول کریمؐ نے اپنا کُرتہ اس کے لئے دیا تھا۔میں نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ میں دعا کے ساتھ اپنی جماعت کی مدد کروں۔دعا کے بغیر کام نہیں چلتا۔دیکھو! صحابہ ؓ کے درمیان بھی جو لوگ دعا کے زمانہ کے تھے یعنی مکی زندگی کے۔جیسی اُن کی شان تھی ویسی دوسروں کی نہ تھی۔حضرت ابوبکر ؓ جب ایمان لائے تھے تو انہوں نے کیا دیکھا تھا۔انہوں نے کوئی نشان نہ دیکھا تھا لیکن وہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور اندرونی حالات کے واقف تھے۔اس واسطے نبوت کا دعویٰ سنتے ہی ایمان لے آئے۔اسی طرح میں کہا کرتاہوں کہ ہمارے دوست اکثر یہاں آیا کریں او ررہاکریں۔گہرا دوست اور پورا واقف بن جانے سے انسان بہت فائدہ اُٹھاتا ہے۔معجزات اور نشانات سے ایسا فائدہ نہیں ہوتا۔معجزات سے فرعون کو کیا فائدہ ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۸ مورخہ ۳؍ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۲