ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 94

کفار لوگ اپنی ہی کرتُوتوں سے ایسے سامان بہم پہنچاتے ہیں کہ بعض وقت جلالی رنگ دکھانا پڑتا ہے۔اس وقت چونکہ اس کی ضرورت نہیں اس واسطے ہم جمالی رنگ میں آئے ہیں۔ملکہ معظمہ کے متعلق یادگاروں کے قائم کرنے کا ذکر درمیان آیا۔حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ ہماری رائے میں ایک بڑا بھاری کالج یا شفاخانہ بننا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم کارنامہ فرمایا۔مسیحؑ کو تو لوگ اتنی لمبی عمر دینے کے واسطے بے فائدہ سعی کرتے ہیں۔ان کی تھوڑی سی عمرنے کیا نتیجہ پیدا کیا ہے جو بڑی عمر کی خواہش کی جاوے۔دنیا صلیب پرستی سے بھرگئی ہے اور جابجا شرک پھیل گیا ہے۔ہاں اگر اتنی عمر کا پانا کسی کے واسطے ممکن ہوتا تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مستحق تھے جنہوں نے تھوڑی سی عمر میں ایک دنیا مؤحّدین سے بھردی اور اُن کے دل میں خدا کی محبت کا سچا جوش بھردیا۔۱ ۱۵؍فروری ۱۹۰۱ ء کرکٹ جو قیامت تک قائم رہے گا قادیان کے مدرسہ تعلیم الاسلام کے لڑکوں کا گیندبَلّا کھیلنے میں میچ تھا۔بعض بزرگ بھی بچوں کی خوشی بڑھانے کے واسطے فیلڈ میں تشریف لے گئے۔حضرت اقدس ؑ کے ایک صاحبزادہ نے بچپن کی سادگی میںآپؑکو کہا کہ ابا تم کیوں کرکٹ پر نہیں گئے۔آپؑ اس وقت تفسیرفاتحہ کے لکھنے میں مصروف تھے۔فرمایا۔وہ توکھیل کر واپس آجائیں گے مگر مَیں وہ کرکٹ کھیل رہا ہوں جو قیامت تک قائم رہے گا۔۲ ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۱۷؍ فروری ۱۹۰۱ ء صفحہ ۱۳ ، ۱۴ ۲ الحکم جلد ۵ نمبر ۷ مورخہ ۲۴ ؍ فروری ۱۹۰۱ ء صفحہ ۱۰