ملفوظات (جلد 1) — Page 72
اعجاز کی خوبی اعجاز کی خوبی اور وجہ تو یہی ہے کہ ہر رعایت کو زیر نظر رکھے۔فصاحت، بلاغت کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دے۔صداقت اور حکمت کو بھی نہ چھوڑے۔یہ معجزہ قرآن شریف ہی کا ہے جو آفتاب کی طرح روشن ہے۔جو ہر پہلو سے اپنے اندر اعجازی طاقت رکھتا ہے انجیل کی طرح نری زبانی ہی جمع خرچ نہیں کہ ’’ ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیر دو۔‘‘ یہ لحاظ اور خیال نہیں کہ یہ تعلیم حکیمانہ فعل سے کہاں تک تعلق رکھتی ہے اور انسان کی فطرت کا لحاظ اس میں کہاں تک ہے؟ اس کے مقابل میں قرآن کی تعلیم پڑھیں گے تو پتا لگ جائے گا کہ انسان کے خیالات ایسے ہر پہلو پر قادر نہیں ہو سکتے اور ایسی مکمل اور بے نقص تعلیم زمینی دماغ اور ذہن کا نتیجہ نہیں۔کیا یہ ممکن ہے کہ ہزار آدمی ہمارے سامنے مسکین ہوں اور ہم ایک دو کو کچھ دے دیں اور باقی کا خیال تک بھی نہ کریں اسی طرح انجیل ایک ہی پہلو پر پڑی ہے باقی پہلوؤں کا اسے خیال تک بھی نہیں رہا۔ہم یہ انجیل پر الزام نہیں دیتے یہ یہودیوں کی شامت اعمال کا نتیجہ ہے۔جیسی ان کی استعدادیں تھیں ان کے ہی موافق انجیل آئی۔’’جیسی روح ویسے فرشتے‘‘ اس میں کسی کا کیا قصور؟ انجیل کی تعلیم مختص الزمان تھی اس کے علاوہ انجیل ایک قانون ہے مختص المقام و الزمان اور مختص القوم۔جیسا کہ انگریز بھی قوانین مختص المقام اور مختص الوقت نافذ کر دیتے ہیں بعد از وقت اُن کا اثر نہیں رہتا۔اسی طرح انجیل بھی ایک مختص قانون ہے عام نہیں۔مگر قرآن کریم کا دامن بہت وسیع ہے۔وہ قیامت تک ایک ہی لاتبدیل قانون ہے اور ہر قوم اور ہر وقت کے لئے ہے۔چنانچہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ؗ وَمَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ (الحجر:۲۲) یعنی ہم اپنے خزانوں میں سے بقدر معلوم نازل کرتے ہیں۔انجیل کی ضرورت اسی قدر تھی اس لئے انجیل کا خلاصہ ایک صفحہ میں آسکتا ہے۔قرآن سب زمانوں کے لئے ہے لیکن قرآن کریم کی ضرورتیں تھیں سارے زمانہ کی اصلاح۔قرآن کا مقصد تھا وحشیانہ حالت سے