ملفوظات (جلد 1) — Page 70
انسان اس کی مثل بنانے پر قادر نہیں۔دوسرے مقام پر فرمایا لَىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ (بنی اسرآءیل:۸۹)۔قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت غرض روحانی معجزات میں کوئی یہ خیال نہ کر لے کہ یہ مسلمانوں کا زعم اور خیال ہے۔آج کل کے نیچری نہیں بلکہ خلاف نیچریہ نہیں مانتے کہ قرآن کا معجزہ ہے۔سید احمد نے بھی ٹھوکر کھائی ہے اور وہ اس کی فصاحت و بلاغت کو معجزہ نہیں مانتا۔جب ہم یاد کرتے ہیں تو ہم کو افسوس ہوتا ہے کہ سید احمد نے معجزات سے انکار کیا ہے۔سید صاحب کسی طور سے معجزہ نہیں مان سکتا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ایک معمولی درجہ کا آدمی یا اعلیٰ درجہ کا آدمی بھی نظیر بنا سکتا ہے مگر افسوس تو یہ ہے کہ وہ اتنا نہیں جانتے کہ قرآن لانے والا وہ شان رکھتا ہے کہ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (البیّنۃ:۴،۳)۔ایسی کتاب جس میں ساری کتابیں اور ساری صداقتیں موجود ہیں۔کتاب سے مراد اور عام مفہوم وہ عمدہ باتیں ہیں جو بالطبع انسان قابل تقلید سمجھتا ہے۔قرآن مجید کی جامعیت قرآن شریف ایسی حکمتوں اور معارف کا جامع ہے اور رطب و یابس کا ذخیرہ اس کے اندر نہیں۔ہر ایک چیز کی تفسیر وہ خود کرتا ہے اور ہر ایک قسم کی ضرورتوں کا سامان اس کے اندر موجود ہے۔وہ ہر پہلو سے نشان اور آیت ہے۔اگر کوئی انکار کرے تو ہم ہر پہلو سے اس کا اعجاز ثابت کرنے اور دکھلانے کو تیار ہیں۔آج کل توحید اور ہستی الٰہی پر بہت زور آور حملے ہو رہے ہیں۔عیسائیوں نے بھی بہت کچھ زور مارا اور لکھا لیکن جو کچھ کہا اور لکھا وہ اسلام کے خدا کی بابت ہی لکھا نہ کہ ایک مُردہ مصلوب اور عاجز خدا کی بابت۔ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر قلم اٹھائے گا۔اس کو آخر کار اسی خدا کی طرف آنا پڑے گا جو اسلام نے پیش کیا ہے کیونکہ صحیفۂ فطرت کے ایک ایک پتہ میں اس کا پتا ملتا ہے اور بالطبع انسان اسی خدا کا نقش اپنے اندر رکھتا ہے۔غرض ایسے آدمیوں کا قدم جب اٹھے گا وہ اسلام ہی کے میدان کی طرف اٹھے گا۔یہ بھی تو ایک عظیم الشان اعجاز ہے۔