ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 61

حتی کہ غوث و قطب کہلانے والوں کی اولاد اور سادات کے فرزندوں کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرتے دیکھ چکے ہو۔اِن صحیح النسب سیدوں کی اولاد جو اپنا سلسلہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچاتے ہیں ہم نے کرسچن دیکھی ہے اور بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت قسم قسم کے الزام (نعوذ باللہ) لگاتے ہیں۔ایسی حالت میں بھی اگر کوئی مسلمان اپنے دین اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عزت اور غیرت نہیں رکھتا تو اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا؟ اگر تم اپنے بچوں کو عیسائیوں، آریوں اور دوسروں کی صحبت سے نہیں بچاتے یا کم از کم نہیں بچانا چاہتے تو یاد رکھو نہ صرف اپنے اوپر بلکہ قوم پر اور اسلام پر ظلم کرتے ہو اور بڑا بھاری ظلم کرتے ہو۔اس کے یہ معنے ہیں کہ گویا تمہیں اسلام کی کچھ غیرت نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت تمہارے دل میں نہیں۔راستباز اور متقی بنو تا کہ عقل میں جودت اور ذہانت پیدا ہو ذرا سمجھو اور سوچو۔خدا کے واسطے عقل سے کام لو اور اس لئے کہ عقل میں جودت اور ذہانت پیدا ہو۔راستباز اور متقی بنو۔پاک عقل آسمان سے آتی ہے اور اپنے ہمراہ ایک نور لاتی ہے لیکن وہ جوہر قابل کی تلاش میں رہتی ہے۔اس پاک سلسلہ کا قانون وہی قانون ہے جو ہم جسمانی قانون میں دیکھتے ہیں۔بارش آسمان سے پڑتی ہے لیکن کوئی جگہ اس بارش سے گلزار ہوتی ہے اور کہیں کانٹے اور جھاڑیاں ہی اگتی ہیں اور کہیں وہی قطرہ بارش کا سمندر کی تہہ میں جا کر ایک گوہر شاہوار بنتا ہے۔بقول کسے در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس # اگر زمین قابل نہیں ہوتی تو بارش کا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ الٹا ضرر اور نقصان ہوتا ہے۔اس لئے آسمانی نور اترا ہے اور وہ دلوں کو روشن کیا چاہتا ہے۔اس کے قبول کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو تیار ہو جاؤ تا کہ ایسا نہ ہو کہ بارش کی طرح کہ جو زمین قابل جوہر نہیں رکھتی وہ اس کو ضائع کر دیتی ہے تم بھی باوجود نور کے ہوتے تاریکی میں چلو اور ٹھوکر کھا کر اندھے کنویں میں گر کر ہلاک ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ مادر مہربان سے بھی بڑھ کر مہربان ہے۔وہ نہیں چاہتا کہ اس کی مخلوق ضائع ہو۔وہ ہدایت اور