ملفوظات (جلد 1) — Page 58
میں نہیں اور یہ سب اس لئے ہوا کہ آپ کے قول اور فعل میں پوری مطابقت تھی۔میری ان باتوں پر عمل کرو میری یہ باتیں اس لئے ہیں کہ تا تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اور اس تعلق کی وجہ سے میرے اعضاء ہو گئے ہو ان باتوں پر عمل کرو اور عقل اور کلام الٰہی سے کام لو تا کہ سچی معرفت اور یقین کی روشنی تمہارے اندر پیدا ہو اور تم دوسرے لوگوں کو ظلمت سے نور کی طرف آنے کا وسیلہ بنو اس لئے کہ آج کل اعتراضوں کی بنیاد طبعی اور طبابت اور ہیئت کے مسائل پر ہے۔لازم ہوا کہ ان علوم کی ماہیت اور کیفیت سے آگاہی حاصل کریں تا کہ جواب دینے سے پہلے اعتراض کی حقیقت تو ہم پر کھل جاوے۔علوم جدیدہ کی تحصیل میں ان مولویوں کو غلطی پر جانتا ہوں جو علوم جدیدہ کی تعلیم کے مخالف ہیں وہ دراصل اپنی غلطی اور کمزوری کو چھپانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ان کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ علوم جدیدہ کی تحقیقات اسلام سے بدظن اور گمراہ کر دیتی ہے اور وہ یہ قرار دئیے بیٹھے ہیں کہ گویا عقل اور سائنس اسلام سے بالکل متضاد چیزیں ہیں چونکہ خود فلسفہ کی کمزوریوں کو ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لئے یہ بات تراشتے ہیں کہ علوم جدیدہ کا پڑھنا ہی جائز نہیں۔ان کی روح فلسفہ سے کانپتی ہے اور نئی تحقیقات کے سامنے سجدہ کرتی ہے۔سچا فلسفہ قرآن میں ہے مگر وہ سچا فلسفہ ان کو نہیں ملا جو الہام الٰہی سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم میں کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے وہ ان کو اور صرف ان کو دیا جاتا ہے جو نہایت تذلّل اور نیستی سے اپنے تئیں اللہ کے دروازے پر پھینک دیتے ہیں۔جن کے دل اور دماغ سے متکبرانہ خیالات کا تعفن نکل جاتا ہے اور جو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے گڑگڑا کر سچی عبودیت کا اقرار کرتے ہیں۔علوم جدیدہ کو اسلام کے تابع کرنا چاہیے پس ضرور ہے کہ آج کل دین کی خدمت اور اعلائے کلمۃ اللہ کی غرض سے علوم جدیدہ