ملفوظات (جلد 1) — Page 57
تعریف میں اُولِي الْاَيْدِيْ وَ الْاَبْصَارِ(صٓ:۴۶) فرماتا ہے کہیں اولی الالسنۃ نہیں فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ کو وہی لوگ پسند ہیں جو بصر اور بصیرت سے خدا کے کام اور کلام کو دیکھتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرتے ہیں اور یہ ساری باتیں بجز تزکیہ نفس اور تطہیر قوائے باطنیہ کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتیں۔فلاح دارین کے حصول کا طریق اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں فلاح دارین حاصل ہو اور لوگوں کے دلوں پر فتح پاؤ تو پاکیزگی اختیار کرو۔عقل سے کام لو اور کلامِ الٰہی کی ہدایات پر چلو۔خود اپنے تئیں سنوارو اور دوسروں کو اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھاؤ۔جب البتہ کامیاب ہو جاؤ گے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے سخن کز دل بروں آید نشیند لا جرم بر دل # پس پہلے دل پیدا کرو۔اگر دلوں پر اثر اندازی چاہتے ہو تو عملی طاقت پیدا کرو کیونکہ عمل کے بغیر قولی طاقت اور انسانی قوت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔زبان سے قیل و قال کرنے والے تو لاکھوں ہیں۔بہت سے مولوی اور علماء کہلا کر منبروں پر چڑھ کر اپنے تئیں نائب الرسول اور وارث الانبیاء قرار دے کر وعظ کرتے پھرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ تکبر نہ کرو، بدکاریوں سے بچو مگر جو اُن کے اپنے اعمال ہیں اور جو کرتوتیں وہ خود کرتے ہیں ان کا اندازہ اس سے کر لو کہ ان باتوں کا اثر تمہارے دلوں پر کہاں تک ہوتا ہے؟ قول و فعل میں مطابقت اگر اس قسم کے لوگ عملی طاقت بھی رکھتے اور کہنے سے پہلے خود کرتے تو قرآن میں لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (الصّف:۳) کہنے کی کیا ضرورت پڑتی؟ یہ آیت ہی بتلاتی ہے کہ دنیا میں کہہ کر خود نہ کرنے والے بھی موجود تھے اور ہیں اور ہوں گے۔تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔اسی سے تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صداقت ثابت ہوتی ہے کیونکہ جو کامیابی اور تاثیر فی القلوب ان کے حصہ میں آئی اس کی کوئی نظیر بنی آدم کی تاریخ