ملفوظات (جلد 1) — Page 54
نہیں بلکہ مطمئن کر دینے والا ثبوت دیتی ہے۔زمین و آسمان کی شہادتیں کسی مصنوعی اور بناوٹی خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں دیتیں بلکہ اس خدائے اَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْوَلَمْ یُوْلَدْ کی ہستی کو دکھاتی ہیں جو زندہ اور قائم خدا ہے اور جسے اسلام پیش کرتا ہے۔چنانچہ پادری فنڈر جس نے پہلے پہل ہندوستان میں آکر مذہبی مناظروں میں قدم رکھا اور اسلام پر نکتہ چینیاں کیں اپنی کتاب میزان الحق میں خود ہی سوال کے طور پر لکھتا ہے کہ اگر کوئی ایسا جزیرہ ہو جہاں تثلیث کی تعلیم نہ دی گئی ہو تو کیا وہاں کے رہنے والوں پر آخرت میں مواخذہ تثلیث کے عقیدہ کی بنا پر ہو گا؟ پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ ان سے توحید کا مواخذہ ہو گا۔اس سے سمجھ لو کہ اگر توحید کا نقش ہر ایک شے میں نہ پایا جاتا اور تثلیث ایک بناوٹی اور مصنوعی تصور نہ ہوتی تو عقیدہ توحید کی بنا پر مواخذہ کیوں ہوتا؟ توحید کا نقش قدرت کی ہر چیز میں رکھا ہوا ہے بات اصل میں یہ ہے کہ انسان کی فطرت ہی میں اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوْا بَلٰى (الاعراف:۱۷۳) نقش کیا گیا ہے اور تثلیث سے کوئی مناسبت جبلت انسانی اور تمام اشیائے عالم کو نہیں۔ایک قطرہ پانی کا دیکھو تو وہ گول نکلتا ہے۔مثلث کی شکل میں نہیں نکلتا۔اس سے بھی صاف طور پر یہی پایا جاتا ہے کہ توحید کا نقش قدرت کی ہر چیز میں رکھا ہوا ہے۔خوب غور سے دیکھو کہ پانی کا قطرہ گول ہوتا ہے اور کروی شکل میں توحید ہی ہوتی ہے اس لئے کہ وہ جہت کو نہیں چاہتی اور مثلث شکل جہت کو چاہتی ہے۔چنانچہ آگ کو دیکھو شکل بھی مخروطی ہے اور وہ بھی کرویت اپنے اندر رکھتی ہے۔اس سے بھی توحید کا نور چمکتا ہے۔زمین کو لو اور انگریزوں ہی سے پوچھو کہ اس کی شکل کیسی ہے؟ کہیں گے گول۔الغرض طبعی تحقیقاتیں جہاں تک ہوتی چلی جائیں گی وہاں توحید ہی توحید نکلتی چلی جائے گی۔اللہ تعالیٰ اس آیت اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ۔۔۔۔الآیۃ (اٰلِ عمران:۱۹۱) میں بتلاتا ہے کہ جس خدا کو قرآن پیش کرتا ہے اس کے لئے زمین آسمان دلائل سے بھرے پڑے ہیں۔مجھے ایک حکیم کا مقولہ بہت ہی پسند آتا ہے کہ اگر کُل کتابیں دریا برد کر دی جاویں تو پھر بھی اسلام کا خدا باقی رہ جائے گا۔اس لئے کہ وہ مثلث اور کہانی نہیں۔اصل میں پختہ بات وہی ہے جس کی