ملفوظات (جلد 1) — Page 55
صداقت کسی خاص چیز پر منحصر ہو کہ اگر وہ نہ ہو تو اس کا پتہ ہی ندارد۔قصہ کہانی کا نقش نہ دل میں ہوتاہے، نہ صحیفۂ فطرت میں جب تک کسی پنڈت، پاندھے یا پادری نے یاد رکھا ان کا کوئی وجود مسلّم رہا۔زاں بعد حرف غلط کی طرح مٹ گیا۔تعلیم قرآن کی شہادت قانون قدرت کی زبان سے ادا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ۔فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ۔لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (الواقعۃ :۷۸تا ۸۰) بلکہ یہ سارا صحیفہ قدرت کے مضبوط صندوق میں محفوظ ہے۔کیا مطلب کہ یہ قرآن کریم ایک چُھپی ہوئی کتاب میں ہے۔اس کا وجود کاغذوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے جس کو صحیفۂ فطرت کہتے ہیں یعنی قرآن کی ساری تعلیم کی شہادت قانون قدرت کے ذرہ ذرہ کی زبان سے ادا ہوتی ہے۔اس کی تعلیم اور اس کی برکات کتھا کہانی نہیں جو مٹ جائیں۔ضرورت الہام ہر ایک آدمی چونکہ عقل سے مدارج یقین پر نہیں پہنچ سکتا اس لئے الہام کی ضرورت پڑتی ہے جو تاریکی میں عقل کے لئے ایک روشن چراغ ہو کر مدد دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے فلاسفر بھی محض عقل پر بھروسہ کر کے حقیقی خدا کو نہ پا سکے۔چنانچہ افلاطون جیسا فلاسفر بھی مرتے وقت کہنے لگا کہ میں ڈرتا ہوں۔ایک بت پر میرے لئے ایک مرغا ذبح کرو۔اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو گی۔افلاطون کی فلاسفی، اس کی دانائی اور دانش مندی اس کو وہ سچی سکینت اور اطمینان نہیں دے سکی جو مومنوں کو حاصل ہے۔یہ خوب یاد رکھو کہ الہام کی ضرورت قلبی اطمینان اور دلی استقامت کے لئے اشد ضروری ہے۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے عقل سے کام لو اور یہ یاد رکھو کہ جو عقل سے کام لے گا اسلام کا خدا اسے ضرور ہی نظر آجائے گا۔کیونکہ درختوں کے پتّے پتّے پر اور آسمان کے اجرام پر اس کا نام بڑے جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے۔لیکن بالکل عقل کے ہی تابع نہ بن جاؤ تا کہ الہام الٰہی کی وقعت کو کھو بیٹھو جس کے بغیر نہ حقیقی تسلی اور نہ اخلاق فاضلہ نصیب ہو سکتے ہیں۔برہمو لوگ بھی شانتی اور سچا نور نجات کا حاصل نہیں کر سکتے