ملفوظات (جلد 1) — Page 45
اس نے اپنی کتاب قرآن کریم میں اپنے وجود اور توحید کو پُر زور اور آسان دلائل سے ثابت کیا ہے ایک برتر ہستی اور نور ہے۔وہ لوگ جو اس زبردست ہستی کی قدرتوں اور عجائبات کو دیکھتے ہوئے بھی اس کے وجود میں شکوک ظاہر کرتے اور شبہ کرتے ہیں۔سچ جانو بڑے ہی بدقسمت ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنی زبردست ہستی اور مقتدر وجود کے اثبات کے متعلق ہی فرمایا ہے اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (ابراھیم :۱۱) کیا اللہ کے وجود میں بھی شک ہو سکتا ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے؟ دیکھو یہ تو بڑی سیدھی اور صاف بات ہے کہ ایک مصنوع کو دیکھ کر صانع کو ماننا پڑتا ہے۔ایک عمدہ جوتے یا صندوق کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کی ضرورت کا معاً اعتراف کرنا پڑتا ہے۔پھر تعجب پر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی میں کیونکر انکار کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ایسے صانع کے وجود کا انکار کیونکر ہو سکتا ہے جس کے ہزار ہا عجائبات سے زمین اور آسمان پُر ہیں۔پس یقیناً سمجھ لو کہ ان قدرت کے عجائبات اور صنعتوں کو دیکھ کر بھی جن میں انسانی ہاتھ انسانی عقل و دماغ کا کام نہیں اگر کوئی بیوقوف خدا کی ہستی اور وجود میں شک لائے تو وہ بدقسمت انسان شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے اس کو استغفار کرنا چاہیے۔خدا کی ہستی کا انکار دلیل اور رؤیت کی بنا پر نہیں بلکہ اللّٰہ جلّ شانُہٗ کا انکار کرنا باوجود مشاہدہ کرنے اس کی قدرتوں اور عجائبات مخلوقات اور مصنوعات کے جو زمین و آسمان میں بھرے پڑے ہیں بڑی ہی نابینائی ہے۔نابینائی کی دو قسمیں ہیں۔ایک آنکھوں کی نابینائی ہے اور دوسری دل کی۔آنکھوں کی نابینائی کا اثر ایمان پر کچھ نہیں ہوتا مگر دل کی نابینائی کا اثر ایمان پر پڑتا ہے۔اس لئے یہ ضروری اور بہت ضروری ہے کہ ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ سے پورے تذلّل اور انکسار کے ساتھ ہر وقت دعا مانگتا رہے کہ وہ اسے سچی معرفت اور حقیقی بصیرت اور بینائی عطا کرے اور شیطان کے وساوس سے محفوظ رکھے۔آخرت پر ایمان شیطان کے وساوس بہت ہیں اور سب سے زیادہ خطرناک وسوسہ اور شبہ جو انسانی دل میں پیدا کر کے اسے خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ کر دیتا ہے آخرت کے متعلق ہے کیونکہ تمام نیکیوں اور راستبازیوں کا بڑا بھاری ذریعہ منجملہ دیگر اسباب اور وسائل کے