ملفوظات (جلد 1) — Page 46
آخرت پر ایمان بھی ہے اور جب انسان آخرت اور اس کی باتوں کو قصہ اور داستان سمجھے تو سمجھ لو کہ وہ ردّ ہو گیا اور دونوں جہان سے گیا گزرا ہوا۔اس لئے کہ آخرت کا ڈر بھی تو انسان کو خائف اور ترساں بنا کر اس کو معرفت کے سچے چشمہ کی طرف کشاں کشاں لے آتا ہے اور سچی معرفت بغیر حقیقی خشیت اور خدا ترسی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔پس یاد رکھو کہ آخرت کے متعلق وساوس کا پیدا ہونا ایمان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے اور خاتمہ بالخیر میں فتور آجاتا ہے۔ابرار کا طریق زندگی جس قدر ابرار، اخیار اور راستباز انسان دنیا میں ہو گزرے ہیں جو رات کو اٹھ کر قیام اور سجدہ ہی میں صبح کر دیتے تھے۔کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ وہ جسمانی قوتیں بہت رکھتے تھے اور بڑے بڑے قوی ہیکل جوان اور تنومند پہلوان تھے؟ نہیں۔یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ جسمانی قوت اور توانائی سے وہ کام ہرگز نہیں ہو سکتے جو روحانی قوت اور طاقت کر سکتی ہے۔بہت سے انسان آپ لوگوں نے دیکھے ہوں گے جو تین، چار بار دن میں کھاتے ہیں اور خوب لذیز اور مقوی اغذیہ پلاؤ وغیرہ کھاتے ہیں مگر اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔صبح تک خرانٹے مارتے رہتے ہیں اور نیند ان پر غلبہ رکھتی ہے اور یہاں تک نیند اور سستی کے مغلوب ہو جاتے ہیں کہ ان کو عشاء کی نماز بھی دو بھر اور مشکل عظیم معلوم دیتی ہے چہ جائیکہ وہ تہجد گزار ہوں۔دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین کیا تنعم پسند اور خورد و نوش کے دلدادہ تھے جو کفار پر غالب تھے؟ نہیں یہ بات تو نہیں۔پہلی کتابوں میں بھی ان کی نسبت آیا ہے کہ وہ قائم اللّیل اور صائم الدّہر ہوں گے۔ان کی راتیں ذکر اور فکر میں گزرتی تھیں اور ان کی زندگی کیوں کر بسر ہوتی تھی؟ قرآن کریم کی یہ آیہ شریفہ ان کے طریق زندگی کا پورا نقشہ کھینچ کر دکھاتی ہے وَمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ (الانفال:۶۱) اور يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَرَابِطُوْا۔۔۔الآیۃ (اٰل عمران:۲۰۱) اور سرحد پر اپنے گھوڑے باندھے رکھو کہ خدا کے دشمن اور تمہارے دشمن اس تمہاری تیاری اور استعداد سے ڈرتے رہیں۔اے مومنو! صبر اور مصابرت اور مرابطت کرو۔