ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 513 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 513

جب اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت اُٹھ جاتی ہے اور دلوں میں رقت اور روح میں گدازش نہیں رہتی؟ اس وقت منذر نشان پیدا ہوتے ہیں۔یہ مقام تو ڈرنے کا تھا مگر افسوس ان لوگوں نے اندھے اور بہرے ہو کر ان نشانات الٰہیہ کو (جو تضرّع اور ابتہال پیدا کر سکتے تھے،ایمان میں ایک نئی زندگی بخش سکتے تھے) چھوڑ دیا اور صُمٌّ بُکْمٌ ہو کر گزر گئے۔ایسے لوگوں کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ایسے لوگوں پر خدا کا فتویٰ لگ چکا ہے صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ (البقرۃ:۱۹) ہماری جماعت کا فرض مگر ہماری جماعت جس نے مجھے پہچانا ہے کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانات کو باسی نہ ہونے دے۔اس سے قوت یقین پیدا ہوتی ہے۔اس لئے ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ ان نشانات کو پوشیدہ نہ رکھے اور جس نے دیکھے ہیں وہ ان کو بتلا دے جو غائب ہیں تاکہ برائیوں سے بچیں اور خدا پر تازہ ایمان پیدا کریں اور ان نشانات کو عمدہ براہین سے سجا سجا کر پیش کریں۔یاد رکھو! خدا کے دلائل اور براہین کو جو غور سے نہیں دیکھتے وہ اندھے ہوتے ہیں اور حق کو دیکھ نہیں سکتے اور ان کے سننے کے کان نہیں ہوتے۔یہ لوگ چارپائے بلکہ ان سے بھی بدتر ہوتے ہیں اور خدا ان کی زندگی کا متکفّل نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ متّقی اور مومن کی زندگی کا ذمہ دار ہے۔هُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ (الاعراف:۱۹۷) اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور اور چوپایوں کے مشابہ ہیں ان کی زندگی کا کفیل نہیں۔بھلا بتلاؤ تو سہی کہ کوئی آدمی ذبح ہوتے ہوئے بکروں کے سر پر بھی بیٹھ کر روتا ہے؟ پھر جو لوگ بکروں سے بھی گئے گزرے ہیں ان کی زندگی کی کیا پروا ہوسکتی ہے۔جانوروں کی زندگی دیکھ لو کہ محنتیں ان سے لی جاتی ہیں اور ان کو ذبح کیا جاتا ہے۔پس جو انسان خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرتا ہے اس کی زندگی کی ضمانت نہیں رہتی چنانچہ فرمایا قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ (الفرقان:۷۸) یعنی اگر تم اللہ کو نہ پکارو تو میرا رب تمہاری پروا ہی کیا رکھتا ہے۔یاد رکھو جو دنیا کے لئے خدا کی عبادت کرتے ہیں یا اس سے تعلق نہیں رکھتے۔اللہ تعالیٰ ان کی کچھ پروا نہیں رکھتا۔۱۲۰؎